یہ خواب کہاں اُٹھا رکھیں؟؟

خالد کنول کہتا ہے کہ ہر سال اگست میں ہمارے گھر پر عجیب یاسیت اور اُداسی چھا جاتی ہے۔ دادی اماں کے کمرے سے تو باقاعدہ سسکیوں کی آوازیں آتی ہیں۔ اباجان جو ہر روز صبح ناشتہ دادی اماں کے ساتھ کرتے ہیں، وہ بھی وہاں جاتے ہوئے کترانے لگتے ہیں۔ لاہور کے ایک متوسط محلے میں قیام پذیر یہ خاندان امرتسر کے ایک نواحی گائوں سے ہجرت کرکے پاکستان آیا تھا۔ دادی اماں جو اب نوے کے پیٹے میں ہیں، کو 40ء کی دہائی کے سارے ہنگامے اچھی طرح یاد ہیں۔ تحریک آزادی اور اس کے نتیجہ میں ملنے والی مملکت خداداد سے دادی اماں کا تعلق عجیب جذبات و کیفیات لیے ہوئے ہے۔
دادی اماں کی یادداشتیں نری یادیں نہیں ہیں، بلکہ ہر قصے کے ساتھ جذبات کا ایک طوفان ہے جو امڈا چلا آتا ہے۔ ایک دفعہ خالد ملنے آیا تو بہت مغموم اور آزردہ تھا۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ وہ بھی اگست کا مہینہ اور یومِ آزادی سے آگے پیچھے کا کوئی دن تھا۔ کہنے لگا آج پھر ہمارے گھر میں شام غریباں برپا ہوئی۔ دادی نے قصے سنائے، اور ہر قصہ کے دوران کئی دفعہ اپنی موٹے موٹے شیشوں والی عینک اُتار کر دوپٹے کے پلو سے اپنی گیلی آنکھیں رگڑیں۔
40ء کی دہائی کے درمیانے سال قیامت کے ہنگاموں کے سال تھے۔ دادی اماں کو امرتسر کے نواحی گائوں کے اس گنجان محلے میں اپنے مکان کا ایک ایک گوشہ، اپنی گلی اور محلہ کا سارا نقشہ خوب یاد ہے۔ راتوں کو دیر تک اپنی سکھیوں ہم جولیوں کے ساتھ بیٹھ کر سبز پرچم سینے کے مقابلے ہوتے تھے۔

سبز اور سفید رنگ کے کپڑوں کے تھانوں کے تھان منگوائے جانے، لڑکیاں بالیاں بیٹھ کر ہر حجم کے سائز پر ان کو کاٹاکرتی اور پھر چاند ستارے الگ سے سیا کرتی۔ اس ہنر میں کیسے ایک دوسرے سے آگے نکلنے کا جوش ہوتا۔ کسی کے چاند کی کٹائی کیسی ہے؟ اور کسی کے ستاروں کے کونے کس قدر سیدھے ہیں، اس پر کیسے گھر کی بڑی بوڑھیوں سے فیصلے کروائے جاتے۔ محلے کے لڑکے درختوں سے سیدھی سیدھی لکڑیاں کاٹ ک لے آتے اور ان پرچموں کو ان پر کس دیا جاتا۔ پھر بچوں کی فوج ان کو لے کر
لے کر رہیں گے پاکستان…
بٹ کر رہے گا ہندوستان پاکستان کا مطلب کیا… ’’لا الٰہ الا اللہ‘‘
کے فلک شگاف نعرے لگاتے ہوئے گلیوں میں مارچ کرتے۔ لڑکیاں بھی گھروں کی چھت پر ذرا اوٹ لے کر کھڑی ہوجاتی اور وہیں چھتوں سے گلی میں گزرتے جلوسوں کے نعروں کا جواب دیتی۔ یہ ساری منظر کشی کرتے ہوئے دادی اماں کی آواز جذبات سے بھرا اور آنکھوں میں نمی دوڑ جاتی ہے۔ پھر رفتہ رفتہ ہندوئوں اور خاص کر سکھوں کی آنکھوں میں خون اُترنے لگا۔ پہلے تو گلی محلہ کی مار کٹائی سے آغاز ہوا۔ نوجوان لڑکے پھٹے سروں اور ٹوٹے بازوئوں، ٹوٹی ٹانگوں کے ساتھ گھروں کو آنے لگے۔ اور قیامت تو تب برپا ہوئی جب اعلان آزادی ہوا۔ اس کے بعد کے تو وہی قصے ہیں جو سب کو معلوم ہیں۔ دادی اماں بھی اس لٹے پٹے، کٹے پھٹے قافلے کا ایک ناتواں فرد تھیں جو لاہور آکر مقیم ہوا۔ دوسرے لوگ تو نئے ملک میں نئی زندگی کی ابتدا کرنے، گھر بار ڈھونڈنے، کاروبار اور ملازمتوں کے دھندوں میں پھنس کر پرانی باتیں بھول گئے، مگر دادی اماں آج تک تحریک آزادی کے جوش و خروش اور اس سحر سے باہر نہیں نکل سکیں۔ خالد کنول کے والد کی عمر بھر ناشتے کے دسترخوان پر ماں کو اخبار کی سرخیاں سنانے کا معمول رہا۔ مگر ہر دوسری خبر کے بعد دادی اماں گویا ہوتیں: ’’مگر پاکستان اس لیے تو نہیں بنا تھا؟‘‘ اس جملے کی بار بار تکرار سے تنگ خالد کے ابا ہر بار ماں کو بتاتے: ’’اماں اب وہ باتیں کسی کو یاد نہیں۔‘‘ مگر دادی کہاں چھوڑنے والی تھیں۔ یہ بحث تو سارا سال چلتی، مگر اس سال تو دادی ٹوٹ کر رہ گئیں۔ جب باپ کی بجائے خالد نے دادی کو اخبار سنائے کہ اب 14 اگست کو ہنگامے ہوں گے۔ دھرنے دیے جائیں گے، سیاسی قائدین لاٹھیوں اور ڈنڈوں سے مسلح جتھوں کی قیادت کرتے ہوئے دارالحکومت پر ہلا بولیں گے۔ گرفتاریاں اور نظربندیاں ہوں گی۔ سڑکوں پر پولیس مقابلے ہوں گے۔ قانون نافذ کرنے والے لاٹھیاں برسائیں گے اور جواباً بے ہنگم ہجوم ان کے سر پھاڑیں گے۔ تمام نقل و حرکت معطل اور پورا ملک تشنج کی کیفیت میں ہوگا اور ان تمام ہنگاموں کے لیے یومِ آزادی کا انتخاب ہوا ہے۔
اس خبر نے تو دادی جان کی گویا روح نکال دی۔ وہ اس دن کا باقاعدہ انتظار کیا کرتی تھیں۔ اپنا پرانا سبز جوڑا نکال کر زیب تن کرتیں۔ پرچم سینے کی ہمت نہیں رہی، اس لیے بازار سے جھنڈیاں منگواتیں۔ پوتے، پوتیوں، نواسے نواسیوں اور محلے کے بچوں کو جمع کرکے ہر ایک کے ہاتھ میں ایک جھنڈی تھمادیتی۔ اور پھر حکم صادر ہوتا کہ پوری قوت سے نعرہ لگائو: ’’پاکستان کا مطلب کیا… لا الٰہ الا اللہ… تیرا میرا رشتہ کیا؟… لا الٰہ الا اللہ…‘‘
پھر شام کو وہی جوڑا پہن کر اپنی اولادوں کو ساتھ لیے مینارِ پاکستان جاتیں۔ وہاں جاکر ان کو یوں لگتا کہ وہ اس ملک سے ازسرنو اپنی وفاداری کا اظہار کرنے آئی ہیں۔ تجدیدِ عہد کی اس رسم کو وہ 67 سالوں سے نبھاتی چلی آرہی تھیں۔ آج ابا نے یہ کہہ کر کہ اس سال 14 اگست کو کوئی گھر سے باہر نہیں نکل سکے گا، گویا دادی اماں پر بجلی گرادی۔ بوڑھے اعصاب جلد چٹخ جاتے ہیں۔ دادی اماں کو یہ خوف ہے کہ کہیں یہ میری زندگی کا آخری یومِ آزادی تجدید عہد کے بغیر نہ گزر جائے۔ خالد کنول کا کہنا ہے کہ ہمارے گھر کا ماحول اتنا سوگوار اور افسردہ تو جوان جہاں چچا عالم میاں کی وفات پر بھی نہیں تھا۔ دادی اماں کو یوں لگ رہا ہے کہ سیاسی مداریوں نے ان کا یومِ آزادی بھی ان سے چھین کر اپنی ہوسِ اقتدار کی بھینٹ چڑھادیا ہے۔ ہر آئے گئے سے ایک ہی بات پوچھتی ہیں: ’’کیا پاکستان اس لیے بنا تھا؟؟‘‘ ان کے سوال کا جواب میرے پاس تو نہیں ہے، اگر آپ کے پاس ہو تو بتادیجیے کہ خالد کنول کی مشکل آسان ہو۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

Leave a Reply