ڈاکٹر خالد سومرو شہید… وادی مہران کا بے باک سپوت

سندھ کی دھرتی اپنے اس سپورت کو مدتوں روئے گی۔ وادی مہران میں اب اس بے باک مجاہد کی گرجدار آواز کبھی نہیں گونجے گی۔ مولانا علی محمد حقانی نے اپنے فرمانبردار بیٹے اور سائیں بیر والا حضرت مولانا عبدالکریم قریشی نے اپنے جانثار مرید کو یاد کیا ہوگا جو ڈاکٹر خالد محمود سومرو یوں بھری محفل چھوڑ کر آخرت کے راہی ہوگئے۔ ہفتہ کی صبح یہ خبر ملی تو اللہ ہی جانتا ہے دل پر کیسی قیامت گزری؟ یقین نہیںآرہا تھا کہ جلسوں کو اپنی گرجدار آواز اور شیر کی سی للکار سے گرما دینے والا، ہمیشہ سفر اور حرکت میں رہنے والا یہ پُرجوش و گرم جوش شخص اتنی جلدی دنیا سے منہ موڑ گیا۔ شہادت بھی کیسی مبارک کہ رات گئے تک ’’پیغامِ امن کانفرنس‘‘ میں دنیا کو امن کا پیغام دیتے رہے اور پھر فجر کی نماز کے لیے مسجد آئے تو سیّدنا عمر فاروقؓ جیسی سعادت مند و قابل رَشک شہادت ان کی منتظر تھی۔

آج سے سولہ سترہ برس پہلے کی بات ہوگی۔ میں صادق آباد میں امام الصرف و النحو حضرت مولانا نصراللہ خان صاحب مرحوم کے پاس زیر تعلیم تھا۔ رحیم آباد کے قریب ہی ایک قصبہ کوٹ سبزل کے نام سے ہے جہاں مولانا نعیم اللہ صاحب کا معروف مدرسہ ہے۔

اسی مدرسہ کے سالانہ جلسہ میں ڈاکٹر خالد محمود سومرو شہید کو پہلی دفعہ دیکھا اور سنا۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ سورۃ رعد کی آیت ’’وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ لایَسْتَجِیْبُوْنَ لَہُمْ بِشَیْئٍ اِلَّا کَبَاسِطِ کَفَّیْہِ اِلَی الْمَآئِ لِیَبْلُغَ فَاہُ وَ مَا ہُوَ بِبَالِغِہٖ وَ مَا دُعَآئُ الْکٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍo‘‘

اس آیت پر ڈاکٹر صاحب کا بیان ہوا تھا۔ بیک وقت ترنم و جوش کا مجموعہ تھا۔ قرآن پڑھتے ہوئے بڑی خوش آوازی و خوش الحانی ہوتی اور تقریر کرتے ہوئے ایسا جوش و خروش کہ پورے مجمع میں بجلی کی رمق دوڑا دیتے۔ اس کے بعد ہمارے ہاں دارالعلوم شیرگڑھ میں چند سال قبل ’’اسیر مالٹا مولانا عزیر گلؒ کانفرنس‘‘ منعقد ہوئی تو اس میں بھی ڈاکٹر صاحب شہید تشریف لائے اور اپنے مخصوص گرجدار اور پاٹ دار لہجے میں جوشیلا خطاب فرمایا۔ اب بھی کانوں میں ان کی وہ بلند آواز گونجتی ہے جب وہ مجمع سے سوال کرتے ہوئے بار بار پوچھ رہے تھے: ’’غیرت مند بولے، بے غیرت نہ بولے۔‘‘


٭ مولانا علی محمد حقانی نے اپنے فرمانبردار بیٹے اور سائیں بیر والا حضرت مولانا عبدالکریم قریشی نے اپنے جانثار مرید کو یاد کیا ہوگا جو ڈاکٹر خالد محمود سومرو یوں بھری محفل چھوڑ کر آخرت کے راہی ہوگئے۔ ٭ عین صاحبزادے کی شادی کے روز بجائے اس کے کہ شادی کا سہرا بیٹے کے سر بندھتا قدرت نے شہادت کا سہرا باپ کے سر باندھ دیا۔ ٭

پھر وہ موقع بھی یاد آتا ہے کہ ہم اسلام آباد ایرپورٹ پر شیخ العرب والعجم حضرت مولانا سیّد حسین احمدم مدنیؒ کے صاحبزادے اور جانشین صدر جمعیت علمائے ہند حضرت مولانا سیّد ارشد مدنی صاحب دامت برکاتہم کو رخصت کرکے وی آئی پی لائونج سے باہر نکل رہے تھے کہ اچانک سامنے سے ڈاکٹر صاحب آتے ہوئے نظر آئے۔ وہ اس وقت کراچی کی پرواز سے اُتر کر ایرپورٹ سے باہر آرہے تھے۔ ہمارے ساتھ ہی گاڑی میں بیٹھ گئے اور جہاں تک ہمارا راستہ مشترک تھا اکٹھے سفر کیا۔ آگے ہم گھر کی طرف اور وہ پارلیمنٹ لاجز کی طرف چلے گئے۔ اس زمانے میں وہ سینٹ کے بڑے فعال اور سرگرم رکن تھے۔

ابھی چند روز پہلے کی بات ہے۔ میں کراچی پہنچا تو کلیۃ الشریعہ کے دفتر کی ڈاک لائی گئی۔ پہلا دعوت نامہ ڈاکٹر خالد محمود سومرو صاحب کی طرف سے ان کے بیٹے عطاء الرحمن سومرو کی دعوت ولیمہ کا تھا۔ ساتھ ہی دفتر والوں نے بتایا کہ تاکیدی فون بھی آیا تھا کہ آپ ضرور شریک ہوں۔ اللہ تعالیٰ کو یوں ہی منظور تھا کہ عین صاحبزادے کی شادی کے روز بجائے اس کے کہ شادی کا سہرا بیٹے کے سر بندھتا قدرت نے شہادت کا سہرا باپ کے سر باندھ دیا۔

ڈاکٹر خالد محمود سومرو کی شہادت اہلِ حق کا ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ اس تصور سے ہی دل بیٹھ جاتا ہے کہ اب ملک بھر میں بالعموم اور وادی مہران میں بالخصوص اللہ کی توحید، رسول اللہ کی سالت، صحابہ کرام کی عظمت اور اسلام کی حقانیت کی یہ سب سے اونچی آواز اور بے خوف للکار پھر کبھی نہیں گونجے گی۔ اب سندھ کے جلسوں میں کون پورے بلند آہنگ سے ملک دُشمنوں اور دین فروشوں کو چیلنج کرے گا؟ اس سرگرم مجاہد اور سیاسی کارکن کی مظلومانہ شہادت پر ہم پوری سندھ کی دھرتی سے تعزیت کرتے ہیں اور اللہ رب العزت سے پوری اُمید ہے کہ یہ دھرتی ایسے سپوت پیدا کرنا کبھی بند نہیں کرے گی۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

Leave a Reply