چند گھڑیاں اللہ والوں کے ساتھ

کربوغہ شریف میں دو چیزیں انتہائی باعث کشش ہیں۔ ایک حضرت اقدس مختار الأمۃ مفتی سیّد مختار الدین شاہ صاحب دامت برکاتہم (خلیفہ مجاز قطب الاقطاب شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ) کی ذات والا صفات اور دوسرا ’’دارالایمان والتقویٰ‘‘ کا نورانی اور روحانی ماحول۔ حضرت مفتی سیّد مختار الدین شاہ صاحب تو سرتاپا محبت میں ڈھلی ہوئی ایک ہستی ہیں جن کی خدمت میں پہنچ کر بندہ دنیا کی تمام فکر و پریشانی سے خود کو ایک دَم آزاد محسوس کرنے لگتا ہے۔ مزاج مبارک میں شفقت ہی شفقت ہے، عنایت ہی عنایت اور عطاء ہی عطائ۔ گذشتہ زمانوں کے اولیائے کرام کی نشانی ہیں اور سلف صالحین جیسے ہی معمولات۔ ان کے ہاں تو سارا سال ہی گویا رمضان رہتا ہے، مگر جب ماہِ مبارک سایہ افگن ہوتا ہے تو سالکین میں بہرحال ایک نیا جذبہ دوڑ جاتا ہے۔ پورے ملک سے کھچ کھچ کر لوگ وہاں پہنچتے ہیں۔ اکثر لوگ تو چلّے یعنی چالیس دن کے لیے آتے ہیں، مگر کم اوقات لے کر آنے والوں کی بھی ایک بڑی تعداد ہوتی ہے۔ کوئی ہفتہ کے لیے اور کوئی دس دن کے لیے۔
پھر آخری عشرے میں تو خوب ٹھٹھ لگتے ہیں۔ حضرت مفتی صاحب کے بیشتر خلفاء کرام بھی تشریف لے آتے ہیں۔ جاتے رمضان المبارک کی آخری گھڑیاں اور ساعتیں غنیمت جان کر سالکین ایک عجب عالم وارفتگی میں ہوتے ہیں ایک ایک لمحہ کو وصول کرنے کی فکر اور اپنی مغفرت و بخشش کی دھن دیکھنے والے کو صاف نظر آتی ہے۔ اُدھر حضرت مفتی صاحب کے معمولات دیکھ دیکھ کر حیرت و استعجاب کے ساتھ ساتھ ہمت و حوصلہ ملتا رہتا ہے۔

مریدین باصفا کے سامنے پیر کامل کی ذات ایک نمونہ تو ہوتی ہی ہے۔ ان کی جفاکشی اور اولوالعزمی کو دیکھ دیکھ کر مجھ جیسے کم ہمت اور پست حوصلہ بندہ کے دل میں بھی شوق عبادت انگڑائیاں لینے لگتا ہے۔
وہاں کے معمولات میں ’’دعا‘‘ کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ اور حقیقت ہے کہ فجر کی اذان سے پہلے اور افطار سے قبل پورا مجمع مسجد میں جمع ہوکر جس محویت، استغراق، فنائیت، رقت اور آہ و زاری کے ساتھ انفرادی طور پر دعا کرتا ہے وہ کیفیت گھر میں تو پیدا ہو ہی نہیں سکتی۔ رقیق القلب ذاکرین ایسے زخمی دلوں، دل چیرتی آہوں اور ندامت بھری آوازوں سے اللہ جل شانہٗ کے حضور اپنی فریادیں پیش کرتے ہیں کہ سخت سے سخت دل بھی کچھ دیر کو نرم پڑجائے۔ احادیث مبارکہ میں دعا کو ’’مخ العبادۃ‘‘ یعنی عبادت کا مغز قرار دیا گیا ہے اور یقینا جس کو دعا کا ذوق نصیب ہوجائے اور دعا کا طریقہ آجائے اس کو تمام بھلائیاں نصیب ہوگئیں۔ دوسری چیز ذکر ہے۔ حضرات مشائخ چشت کے ہاں ’’اصلاحی ذکر‘‘ میں ’’جہر‘‘ بھی ہے اور ’’ضرب‘‘ بھی۔ بیشتر مجمع تو مشائخ چشت ہی کے طریق پر ذکر بالجہر کرتا ہے البتہ چونکہ دیگر مشائخ کے بیعت یافتگان کی بھی ایک بڑی تعداد موجود ہوتی ہے، اس لیے نقشبندی حضرات اپنے طریقہ سے اور دیگر حضرات اپنے اپنے مشائخ کے تلقین کردہ طریقہ سے ذکر کرتے ہیں۔

انسان کی طبیعت کچھ اس طرز پر ڈھالی گئی ہے کہ وہ اپنے ماحول اور گردوپیش سے اثر لیتا ہے۔ اگر آپ کے پاس بیٹھا ہوا شخص بڑی محویت، بڑے شوق و محبت اور بڑی وارفتگی کے ساتھ اللہ جل شانہٗ کو یاد کررہا ہو، اور ایک خاص کیفیت کے ساتھ ذکر یا دعا میں مشغول ہو تو لامحالہ آپ بھی اپنی توجہ اسی طرف ہوتی محسوس کریں گے۔ حضرت مفتی صاحب کو اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک سے بڑا خاص تعلق نصیب فرمایا ہے۔ عصر کی نماز کے بعد درسِ قرآن دیتے ہیں اور اس میں ایسے عجیب و غریب نکتے بیان کرتے ہیں کہ تفسیر قرآن سے اچھا خاصا تعلق رکھنے والے علماء کرام بھی اس سے خوب لطف اُٹھاتے ہیں۔ اگرچہ عوامی مجمع کا لحاظ کرتے ہوئے قرآن پاک کو عام فہم انداز میں بیان کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔
دارالایمان و التقویٰ کربوغہ شریف کے ماحول کی ایک اہم خصوصیت ’’خدمت‘‘ کا جذبہ ہے۔ اصلاح کے لیے تشریف لائے ہوئے لوگوں کو باقاعدہ خدمت کی مشق کرائی جاتی ہے۔ ایک عجیب بات یہ دیکھی کہ خود حضرت مفتی صاحب اور ان کے خاص خلفاء کرام خدمت میں سب سے زیادہ سرگرم اور پیش پیش ہوتے ہیں۔ مجمع کو کھانا کھلانے سے لے کر برتن دھونے تک کی ذمہ داریاں خلفاء کرام بڑی تنددہی اور جفاکشی کے ساتھ انجام دے رہے ہوتے ہیں۔ سالن کی بالٹی اُٹھائے اور روٹیوں کا ڈھیر سنبھالے لمبی لمبی قطاروں کو ایک کونے سے دوسرے کونے تک کھانا کھلاتے بزرگانِ دین آپ نے دیکھنے ہوں تو کربوغہ شریف جاکر دیکھ سکتے ہیں۔
رمضان المبارک کے آخری چند دن باقی ہیں۔ یہ مہینہ تو مغفرت اور معافی کا پروانہ لے کر آیا تھا۔ خدا جانے گزشتہ دو عشرے ہم نے کیسے گزارے۔ اب آخری عشرہ ہے اور اس کے بعد ماہ مبارک رخصت۔ اس کو غفلت عیش کوشی یا راحت و آرام کی نذر ہر گز نہیں کرنا چاہیے۔ اگر گھر کے ماحول میں فائدہ نہ ہوا ہو تو اللہ والوں کے در کی راہ لیجیے۔ وہاں کا ماحول آپ سے خود کام لے گا۔ متبع سنت مشائخ عظام اللہ جل شانہٗ کی بڑی نعمت ہیں۔ اس اس نعمت کی قدر کرنی چاہیے اور اپنے دل دھونے کے لیے ان کی خدمت و صحبت کو ذریعہ بنانا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی رضا والی پاکیزہ زندگیاں نصیب فرمائے۔ آمین یا ربّ العالمین۔

2 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

Leave a Reply