پھر رسمِ عاشقی نبھانے چلے

ذرا کلیجے پر ہاتھ رکھ کر بتائیے، خود اپنے ہاتھوں سے اپنے اکلوتے جگر گوشے کے حلق پر چھری پھیرنا کیسا ہے؟؟ جگر گوشہ بھی وہ جو مدتوں دعائیں مانگ مانگ کر تمام نااُمیدیوں میں ایک اُمید بن کر طلوع ہوا ہو۔ بوڑھی ماں اور سن رسیدہ باپ کا اس معصوم بچے سے جو تعلق ہوسکتا ہے کیا اس کا تصور آسان ہے؟ واقعی اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر انبیاء کرام کی قربانیاں اور حق تعالیٰ کے ساتھ ان کی والہانہ محبت اور بے مثال و بے نظیر اطاعت پوری انسانی تاریخ کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ اگر یہ روشن مثالیں اور بے مثال جذبے نہ ہوتے، طاعت و عبدیت کے یہ روشن چراغ نہ جلتے تو انسانیت کہاں سے روشنی پاتی؟ نفس کے بندوں اور خواہشات کے غلاموں کے لیے تو آج ان واقعات پر یقین کرنا مشکل ہورہا ہے، کجا ان سے سبق لینا اور آج ان سے منسلک احکامات بجالانا۔
اللہ جل شانہٗ کو بھی اپنے پیغمبر کی ادا کس قدر پسند آئی اور قدر دان ذات عالی نے طاعت و عبدیت کے اس بے مثال و لازوال منظر کو کیسے رہتی دنیا تک محفوظ فرمادیا۔ ہر سال عید قربان آتی ہے اور سنت ابراہیمی کے سارے عالم میں ڈنکے بجتے ہیں۔ ازسرنو تذکرے ہوتے ہیں، عشاق اپنے قلوب گرماتے اور لاکھوں، کروڑوں جانوروں کے حلق پر چھری پھیر کر سیّدنا ابراہیم علی نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مبارک سنت کی یاد تازہ کرتے ہیں۔

یوں تو پورا حج ہی سیّدنا ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام اور ان کے بلند مقام صاحبزادے سیّدنا اسماعیل علیہ السلام سے وابستہ یادگاروں کو زندہ کرنے اور زندہ رکھنے کا نام ہے اور اس کے ایک ایک منسک کے ساتھ حق جل و علا کے احکامات کو بلاچوں چراں صرف تسلیم ہی نہ کرنے بلکہ اپنی سعادت جاننے کا جو مظاہرہ کیا جاتا ہے شاید ہی اس کا ایسا والہانہ اور البیلا اظہار کسی اور عبادت سے ہوتا ہو۔
عید قربان کے نزدیک آتے ہی مویشیوں کی خرید و فروخت کا بازار گرم ہوجاتا ہے۔ جانوروں کی خریداری کے ساتھ ساتھ اب اس میں تفریح کا ایک پہلو بھی شامل ہوگیا ہے۔ کئی کئی کلو میٹروں پر محیط مویشی منڈی میں ایک سے بڑھ ایک جانور دیکھا جاسکتا ہے۔ نوجوان ٹولیاں بناکر اور اہلِ خانہ اکٹھے ہوکر قسماقسم کے عجیب و غریب جانوروں کو دیکھنے کے لیے بھی منڈیوں کا رُخ کرتے ہیں۔ غیرمعمولی جسامت والے لحیم شحیم بیل اور انتہائی اونچے قدوں کے بھاری بھرکم بکرے دیکھ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے اور ان کی قیمتیں سن کر 240 وولٹ کا پورا جھٹکا لگتا ہے۔
15 لاکھ اور 20 لاکھ کے بیل اور 3 سے 5 لاکھ کا بکرا دیکھنے والوں کو ورطہ حیرت میں نہ ڈالے تو اور کیا کرے، مگر یہ رجحان افسوسناک ہے کہ ان غیرمعمولی جسیم اور لحیم و شحیم جانوروں کو اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کی بجائے نام و نمود اور شہرت کا ذریعہ بنانے کا رجحان بھی بڑھتا جارہا ہے۔ کسی کی نیت پر شک کرنا جائز نہیں، مگر قرائن سے پتہ چلتا ہے کہ اب جانور بھی اسٹیٹس سمبل بنتا جارہا ہے۔ محلے میں باقاعدہ جانور کی قیمت پر لمبے چوڑے تبصرے ہوتے ہیں اور کم قیمت جانور لے کر آنے والے اپنے جانوروں کو چھپاتے اور بیش قیمت جانوروں کے مالک دکھاتے پھرتے ہیں۔
اس طرح قربانی کے احکامات جاننے اور اپنی قربانی کو شریعت مطہرہ کے احکامات کی روشنی میں کرکے اللہ تعالیٰ کے ہاں ثواب و اَجر کا اُمیدوار بننے کی بجائے اس کو رسم و رواج کی نذر کیا جارہا ہے۔ اچھے خاصے کھاتے پیتے گھرانے قربانی کو فرد پر ’’انفراداً‘‘ واجب سمجھنے کی بجائے پورے گھر پر ’’اجتماعاً‘‘ واجب سمجھتے ہیں۔ کتنے گھر ایسے ہیں جہاں میاں، بیوی، بیٹوں اور بیٹیوں سب پر اپنی اپنی جگہ قربانی واجب ہوتی ہے، مگر یہ پورا گھرانہ ایک بکرا ذبح کرکے اس وجوب سے خود کو سبکدوش سمجھتا ہے۔ اس طرح اگر ایک قربانی میں کئی افراد شریک ہوں تو اس کے احکامات کی تفصیل جانے بغیر بس سات حصے کرکے خود کو فارغ کرلیا جاتا ہے۔ دیکھیے! یہ عبادت سال میں ایک بار آتی ہے اور جہاں اس کے فضائل و ثواب پر علمائے نے مستقل کتابیں تصنیف کی ہیں وہاں اس کے احکامات اور تفصیلات پر بھی مستقل کتابیں لکھی گئی ہیں۔ فقہ کی تمام کتابوں میں اللہ تعالیٰ کے اس اہم حکم پر مستقل ابواب ہیں، لہٰذا اس کو اتنا سرسری اور ہلکا نہیں سمجھنا چاہیے۔ اپنے علاقے کے علماء سے اس کے احکامات کو اچھی طرح سمجھ کر اس عبادت کو پوری روح اور درستگی کے ساتھ انجام دینا چاہتے۔
آخری مرحلہ گوشت کی تقسیم کا ہوتا ہے۔ کوشش کیجیے کہ آپ کا گوشت ان لوگوں تک پہنچے جن کو سال بھر کم ہی گوشت نصیب ہوتا ہے۔ اپنے غریب رشتہ داروں کو ہر گز نہ بھولیے، نادار پڑوسیوں کا حق مقدم رکھیے اور اس سال شمالی وزیرستان کے متاثرین اور پنجاب و سندھ میں آنے والے بھیانک سیلابوں سے بے گھر ہونے والوں کو بھی اپنی ترجیحی فہرست میں رکھیے۔ اگر ایک گھر میں کئی قربانیاں کی جاتی ہوں تو وہ بڑی سہولت سے کچھ قربانیاں اپنے گھر میں کریں اور کچھ متاثرین وزیرستان اور متاثرین سیلاب کے ساتھ کرسکتے ہیں۔ آخر میں اللہ جل شانہ کا یہ فرمان ہمیشہ یاد رکھیں: ’’لَنْ یَّنَالَ اللّٰہَ لُحُوْمُہَا وَلَا دِمَاؤُہَا وَلٰکِنْ یَّنَالُہُ التَّقْوٰی مِنْکُمْ‘‘ ’’اللہ جل شانہٗ کو نہ تو ہماری قربانیوں کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون… اللہ تعالیٰ تک تو ہمارا تقویٰ اور اخلاص ہی پہنچتا ہے۔‘‘

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

Leave a Reply