نئی زندگی مبارک ہو

حجاج کے قافلوں نے واپسی کے لیے رخت سفر باندھ لیا ہے۔ رسم عاشقی نبھاکر وطن لوٹنے والوں کے دلوں میں دو کیفیات بیک وقت آن کھڑی ہوتی ہیں۔ فریضۂ حج سے سبکدوشی اور امر الٰہی کے امتثال پر یک گو نہ خوشی اور اطمینان و تشکر کی کیفیت اور اسی گھڑی اللہ کے گھر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے در سے رخصتی کے حددرجہ غمگین اور افسردہ کردینے والے جذبات۔ وہاں رہتے ہوئے تو جب چاہا اپنے کمرے سے نکلے حرم میں داخل ہوئے اور خانہ خدا کے دلکش منظر سے آنکھوں کو تازہ کرلیا۔
اسی طرح جب حجاج مدینہ شریف میں ہوں تو جب شوق انگڑائی لے تو سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے روضۂ مبارک کی جالیوں کے سامنے اپنی تمام شرمندگیوں کے ساتھ جاکھڑے ہوئے۔ صلوٰۃ والسلام بھی پیش کیا اور دل میں موجود سالوں اور مدتوں کے حسرت زدہ ارمان بھی کچھ آنسوئوں اور کچھ ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں کہے ڈالے۔ اور اس ڈیڑھ مہینے میں اگر سفر بھی کیا تو کیسا؟ کبھی مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تو کبھی مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ، کبھی مکہ مکرمہ سے منیٰ اور کبھی منیٰ سے عرفات اور کبھی عرفات سے مزدفلہ اور کبھی مزدلفہ سے منیٰ اور پھر منیٰ سے مکہ۔

غرض ایک برکتوں والی جگہ چھوٹتی تو دوسری سعادتوں اور رحمتوں والی جگہ منتظر ہوتی، مگر اب تو یہ سب جگہیں بیک وقت چھوٹنے لگی ہیں اور وطن واپسی کا مرحلہ درپیش ہے۔ گھر سے نکلتے وقت کتنے اندیشہ اور تفکرات دامن گیر تھے، کسی کو بچوں کا غم تو کسی کو ماں، باپ کی خبرگیری کی فکر، کسی کو دکان کا کھٹکا تو کسی کو نوکری کا خرخشہ، مگر وہاں پہنچتے ہی سارے دلدَّر دور اور سارے غم کافور ہوگئے۔ وہاں تو صرف اللہ تعالیٰ کا گھر تھا یا رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی چوکھٹ تھی۔ عاشق بیتاب دیوانہ وار کبھی اِدھر کبھی اُدھر، دل کو سنبھالتا کہ وہ ہر ہر متبرک مقام پر ہاتھوں سے پھسلا اور کلیجے سے نکلا جاتا تھا۔ ایک ایسا ہی سادہ لوح کسی عالم سے بڑی بے بسی اور معصومیت سے پوچھ رہا تھا کہ ’’حضرت! کیا کروں؟ طواف شروع کردوں تو دل چاہتا ہے پورا دن طواف ہی کرتا رہوں، مگر پھر تلاوت و نوافل کا خیال آجاتا ہے۔ تلاوت شروع کروں تو دل چاہتا ہے کہ گھنٹوں کرتا ہی چلا جائوں، مگر پھر خیال آتا ہے کہ طواف کرلوں کہ یہ سعادت وطن میں ملنے والی نہیں۔‘‘
بس کچھ ایسی ہی کیفیات میں یہ چند دن اُڑن چھوہوجاتے ہیں۔ اب جو واپس آرہے ہیں ان کے لیے آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کتنا ہمت افزا اور خوش کن ہے کہ ’’ایسے لوٹ رہے ہیں گویا ماں نے آج جنا ہے۔‘‘… یعنی پچھلی تمام کوتاہیاں، غفلتیں، تمام گناہ، ساری نافرمانیاں کتاب زندگی سے حرف غلط کی طرح مٹادی گئی ہیں اور ایک نئی کتاب ہاتھ میں تھمادی گئی ہے جس کے تمام صفحے کورے کاغذ کی طرح سفید ہیں کہ اب نئے سرے سے لکھنا شروع کرو۔ اب بڑی احتیاط کی ضرورت ہے۔ حج سے پہلے جو ہوا سو ہوا اب تو اللہ تعالیٰ نے کھلی آنکھوں سے اپنی رحمتوں کا مشاہدہ کرادیا ہے۔ ان تمام مقامات پر پھرادیا ہے جہاں اس کے لاڈلے حبیب اور برگزیدہ انبیاء نے اپنی زندگیوں کے اہم ترین کارنامے انجام دیے۔
اب تو اللہ تعالیٰ سے ایک خاص قسم کی لو لگ گئی ہے۔ دل میں جو یہ چھوٹی سی شمع روشن ہوئی ہے اس کی حفاظت کی ازحد ضرورت ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو معصیتوں کی منہ زور آندھی اس شمع کو بجھاڈالے اور دل ایک بار پھر بے نور اور ویران کھنڈر کا منظر پیش کرنے لگے۔ جس دل میں اللہ کی یاد اور اس کے احکامات کا پاس نہ ہو وہ تو نفس اور شیطان کا ’’پلے لینڈ‘‘ ہے جہاں دونوں مل کر خوب قلقاریاں مارتے اور گناہوں کی دھول اُڑاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی نفس کے مکاید اور شیطان کے اغوا سے حفاظت فرمائے۔ حجاج کرام نے جو دعائیں کیں وہ سب قبول فرمائے اور ان کو یہ نئی زندگی ایمان و اطاعت کے ساتھ گزارنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین یا ربّ العالمین بجاہ سیّد المرسلین۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

Leave a Reply