مفید اور کارآمد سلسلہ

یوں لگتا ہے ہمارے محترم دوست مولانا انور غازی صاحب نے اپنے نام آنے والی ساری ڈاک کے جوابات کو تحریری شکل دے ڈالی ہے۔ قلم کاروں کی ڈاک ہوتی کیا ہے؟ کچھ شکوے شکایتیں، تعریف و تحسین کے جملے اور اکثر و بیشتر مشورے اور مشورے۔ یہ کام کیسے کیا جائے؟ اس معاملے میں کیا کریں؟ ایک پریشانی ہے کوئی حل تجویز کریں، سخت تشویش لاحق ہے کوئی دعا بتائیے، یہ اُلجھن ہے کوئی وظیفہ دے دیجیے… غرض اس قسم کے خطوط، میسجز اور ای میلز کا ایک تانتا ہوتا ہے جو اکثر لکھنے والوں خصوصاً دینی موضوعات پر لکھنے والوں کے ہاں بندھا رہتا ہے۔
پاکستانی سماج میں اپنی پریشانیوں، دُکھوں، تکلیفوں، اُلجھنوں اور رکاوٹوں کے معاملات میں دینداروں، علمائ، صلحاء اور مشائخ کی طرف رجوع کرنے کا رجحان ازحد غالب ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ رجحان سادہ لوح اور کم علم لوگوں کو بسا اوقات وہاں بھی پہنچادیتا ہے جہاں ان کی ضروریات اور مسائل پر باقاعدہ بیوپار کیا جاتا ہے۔ اور بیوپار بھی کچھ یوں نہیں کہ لے دے کر کام کردیا جائے بلکہ خالص جعل سازی، دھوکہ بازی اور جھوٹ کا ایک بازار ہے جو گرم ہے۔ آئے دن ان جعلسازوں کے ہاتھوں لٹتے سادہ لوح لوگوں کے قصے اخبارات و جرائد میں لوگوں کی نظروں سے گزرتے رہتے ہیں، مگر پھر

بھی ان اڈّوں پر خلقت کا ہجوم ہے کہ کم ہونے کا نام نہیں لیتا۔
زندگی اگر سلیقے قرینے سے گزاری جائے تو بہت ساری مشکلات اور پریشانیوں سے اللہ تعالیٰ ویسے ہی حفاظت فرمادیتے ہیں۔ ظاہر ہے ہماری ساری پریشانیاں اور تکلیفیں ہمارے ہاتھوں کی ہی کمائی ہوئی ہیں۔ اگر حیات مستعار کے یہ چند گنے چنے لمحے کسی ترتیب میں آجائیں اور زندگی گزارنے کا ڈھنگ انسان سیکھ لے تو 80 فیصد مسائل تو یوں سمجھیے پیدا ہونے سے پہلے ہی ختم ہوجاتے ہیں۔
پیدائش سے لے کر موت تک کی ایک طبعی عمر میں انسان پر مختلف مراحل آتے ہیں۔ ہر مرحلہ میں اس کی طرف یکسر مختلف نوعیت کی ذمہ داریاں متوجہ ہوتی ہیں۔ حقوق و فرائض اور واجبات کا ایک مکمل اور آسان نقشہ ہے جو ہر انسان کے سامنے اس کے احوال کے مطابق بنتا ہے۔ جب ہم اس زندگی کے اس خاکے میں حقیقی رنگ بھرنے کے بجائے طرح دینے کی کوشش کرتے ہیں یا کوئی شارٹ کٹ اختیار کرنا چاہتے ہیں یا خود کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں یا اپنے سماج سے کسی خیانت کا ارادہ کرتے ہیں یا اپنی ذمہ داریوں سے فرار اختیار کرتے ہیں تو وہاں سے مسائل کا ایک جنگل اُگنا شروع ہوجاتا ہے۔
ہم چاہتے ہیں کہ اب فقط دعائوں اور جھاڑ پھونک سے اس پورے جنگل کی صفائی کرکے اسے ایک دلکش باغ بنادیں۔ اب چونکہ یہ سنت اللہ نہیں اور اس ’’دارالعمل‘‘ کے لیے اللہ تعالیٰ نے عمل ہی کو شرط ٹھہرایا ہے، اس لیے ہمیں کامیابی حاصل نہیں ہوتی تو ہم مایوس ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ پھر پیچیدہ دماغی اور نفسیاتی امراض جنم لیتے ہیں۔ غرض اس ساری اَبتری کی بنیادی وجہ زندگی گزارنے کے درست طریقے سے انحراف ہے۔ اسی لیے قرآن نے اس غلط طرزِحیات کو ’’خود پر ظلم‘‘ قرار دیا ہے۔
ان ہی سارے مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے مولانا انور غازی صاحب نے ’’زندگی ایسے گزاریں‘‘ کے نام سے ایک بہت مفید اور کارآمد سلسلہ تحریر شروع کیا ہے۔ پیدائش سے لے کر موت تک ایک عام آدمی کو پیش آنے والے مراحلِ حیات پر کرنے کے کام اور پوری زندگی کو ایک سلیقے اور قرینے سے گزارنے کا طریقہ بڑے سادہ اور عام فہم انداز میں بتایا ہے۔ مجھے اُمید ہے کہ یہ سلسلہ کتب پڑھنے والوں کے لیے بہت نافع ہوگا اور آپ کو اپنے کرنے کے بہت سارے کام اور اپنے بہت سارے سوالوں کے جواب اس میں مل جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو ہر اعتبار سے پڑھنے والوں کے لیے نافع بنائے اور لکھنے والے کے اس عمل کو میزان میں ان کی حسنات کے گراں بار کرنے کا ذریعہ بنائے۔ آمین!! (انور غازی کی نئی کتاب ’’خاندانی نظام ایسے بچائیں‘‘ پر تقریظ کے طور پر لکھا گیا مضمون۔ یہ کتاب الحجاز، کراچی فون نمبر 0314-2139797 سے بارعایت دستیاب ہے۔ یہ کتاب ہر گھر کی ضرورت ہے۔)

1 reply
  1. Muhammad Ateeq
    Muhammad Ateeq says:

    I foster to all such type of Islamic literature. This is a awfully well saying but the most important thing is that if someone whose getting the company of pious people of Allah SW, he would save himself from all types of sins and evil’s deeds. Unfortunately, today our all struggles solely to make the physical life and we are nothing to do for spiritual life, which is the primary and aforementioned is the secondary one, but no one can exempt the importance of it.
    May Allah bless us on the right path. ameen

    Reply

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

Leave a Reply