محبتوں کا سفر

امام ربانی حضرت مولانا رشید گنگوہیؒ کے مزار مبارک پر سکون و سکینت کا ایک عجیب احساس ہوتا رہا۔ حضرت گنگوہیؒ کے ایک جانب ان کے صاحبزادے اور پائنتی کی طرف آپ کی محدثہ صاحبزادی مجذوبہ صفیہ صاحبہ کی قبور مبارک ہیں۔ مزار مبارک کے احاطے میں ایک چھوٹی سی مسجد بھی بنی ہوئی ہے۔ مزار شریف کے متصل ایک وسیع و عریض اراضی لے کر حضرت مولانا اَرشد مدنی دامت برکاتہم نے ایک بڑا مدرسہ قائم کردیا ہے۔ جہاں قرآن پاک کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اس مدرسہ کی نگرانی بھی حضرت مولانا ارشد مدنی دامت برکاتہم کے ایک صاحبزادے کرتے ہیں۔ اس مدرسہ میں چائے وغیرہ کا پُرتکلف بندوبست کیا گیا تھا۔
مزار کے بعد ہم کو حضرت گنگوہیؒ کی خانقاہ اور مدرسہ دیکھنے جانا تھا۔ حضرت کا مدرسہ ہندوستان کے معروف ولی اللہ حضرت مولانا عبدالقدوس گنگوہیؒ کے مزار مبارک سے متصل ہے۔ مزار مبارک کے ساتھ ایک مسجد ہے اور مسجد کی پشت پر حضرت گنگوہیؒ کا چھوٹا سا حجرہ اور اس کے سامنے ایک چھوٹا سا پلاٹ جہاں حضرت گنگوہیؒ حدیث شریف کا شہرہ آفاق درس دیا کرتے تھے۔ اس درسگاہ سے کیسے کیسے نابغۂ روزگار لوگ حدیث پڑھ کر اُٹھے، اس کا تصور کیجیے اور پھر اس جگہ کی سادگی دیکھیے کہ حقیقتاً تعجب ہوتا ہے۔ یہ ساری جگہ بمشکل دس بارہ مرلے کی ہوگی اور اس دس، بارہ مرلہ کی جگہ سے ہندوستان میں

کس قدر عظیم الشان علمی، فکری، روحانی اور جہادی انقلاب برپا ہوا۔ ثابت ہوا کہ بڑے بڑے کاموں اور تاریخ ساز کارناموں کے لیے بڑی بڑی عمارات قطعاً کوئی شرط نہیں ہے۔
حضرت شیخ عبدالقدوس گنگوہیؒ کے ساتھ اس عاجز کا ایک خاندانی رشتہ بھی ہے۔ میرے جد اَسجد حضرت سیّد نادر بابا جن کو ’’مست بابا‘‘ کہا جاتا ہے اور یہ شیخ رحمکار حضرت کاکا صاحبؒ کے دادا ہیں، ان کا نکاح حضرت شیخ عبدالقدوس گنگوہیؒ کی صاحبزادی سے ہوا تھا۔ اس لحاظ سے حضرت شیخ عبدالقدوس گنگوہیؒ کاکاخیل خاندان کے نانا ہیں۔ گنگوہ شریف سے رُخصت ہوکر ہم سہارنپور کے لیے روانہ ہوئے تاکہ شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا صاحب کاندھلویؒ کی یادگاروں اور خاص کر ان کے کچے گھر کی زیارت مقصود تھی۔ جمعہ کا دن تھا۔ طے ہوا کہ جمعہ کی نماز ’’انبیٹھ‘‘ پڑھیں گے۔ انبیٹھ حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوریؒ کا آبائی وطن ہے۔ آپ کے ایک چچازاد بھائی حضرت مولانا صدیق احمد انبیٹھوی بھی بہت معروف عالم و مدرّس اور حضرت گنگوہیؒ کے خلیفہ تھے۔ انبیٹھ میں بھی حضرت اقدس مولانا سیّد ارشد مدنی نے ایک شاندار مدرسہ قائم فرمایا ہے۔ اس مدرسہ میں جمعہ پڑھا اور پھر سہارنپور کے لیے روانہ ہوئے۔ درمیان میں ایک قصبہ ’’کھیڑا افغان‘‘ نامی آیا۔ یہ تبلیغی جماعت کے مشہور بزرگ حضرت مولانا سعید احمد خان صاحب کا وطن ہے۔ سہارنپور پہنچے تو شیخ الحدیث مولانا زکریا کاندھلویؒ کے صاحبزادے اور جانشین حضرت مولانا محمد طلحہ کاندھلوی دامت برکاتہم کو سراپا انتظار پایا۔ تاخیر سے پہنچنے پر ہمارے رفیقِ سفر حضرت مولانا حسین ارشد مدنی صاحب کو خوب بے تکلفانہ تادیب فرمائی۔ بہت محبت و اصرار سے کھانا کھلایا۔ آرام کروایا اور عصر کے بعد حضرت کی مجلس ذکر میں شرکت کی سعادت ملی۔
اس کے بعد مدرسہ مظاہر العلوم دیکھنے نکل آئے۔ مظاہر العلوم کے ساتھ ہی حضرت شیخ الحدیثؒ کی آب بیتی کے مختلف اوراق یوں لگا کہ جیسے مجسم صورت میں سامنے آن کھڑے ہوئے ہوں۔ وہاں سے اس قبرستان میں گئے جہاں حضرت مولانا یحییٰ کاندھلویؒ اور مظاہر العلوم کے کئی اکابر آرام فرما ہیں۔ تمام حضرات کی قبور مبارک پر فاتحہ خوانی اور ان کی مقبول و باسعادت زندگیوں کا تصور کتنا ایمان افروز ہے، اس کے بیان کی حاجت نہیں۔ افسوس کہ قلت وقت کی وجہ سے اس ہم کو دہلی پہنچنا تھا۔ چنانچہ حضرت مولانا محمد طلحہ کاندھلویؒ سے بچشم نم اجازت لی اور دلّی کے لیے روانہ ہوگئے جہاں دو روزہ قیام، مرکز نظام الدین کی زیارت و بزرگوں سے ملاقات، شاہی مسجد، لال قلعہ، خاندان ولی اللہ کے مزارات اور دیگر زیارتوں کے بعد پاکستان واپسی طے تھی

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

Leave a Reply