لہو لہو غزہ کیا کہتا ہے؟

غزہ ایک دفعہ پھر لہو لہو ہے۔ اسرائیل نے آگ و بارود سے قیامت برپا کردی۔ اس دفعہ تو تاک تاک کر عوامی مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ دہشت گرد یہودیوں نے ہسپتالوں، اسکولوں، بازاروں، پارکوں حتیٰ کہ زخمیوں کو لے کر دوڑتی بھاگتی ایمبولینسوں کو بھی آگ و خون میں نہلادیا۔ فلسطین پر اسرائیلی جارحیت کو نصف صدی سے زیادہ بیت گیا ہے اور اس عرصے میں شاید ہی کوئی دن ایسا گزرا ہو جب مظلوم فلسطینیوں نے بدبخت یہودیوں سے کوئی زخم نہ کھایا ہو، مگر اس دفعہ کے حملے نے تو ظلم و ستم کے اگلے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیے۔ فقط آسمان سے ہی بمباری یا راکٹ باری نہیں ہوئی، بلکہ اونچے مقامات پر تعینات یہودی فوجی شوٹرز نے اسنائپر کے ذریعہ پرخچے اُڑانے کا اعتراف کیا ہے۔
بین الاقوامی خبررساں اداروں کے نمایندے غزہ سے رپورٹنگ کرتے ہوئے موٹے موٹے آنسوئوں سے روتے رہے، حالانکہ کہا جاتا ہے کہ ڈاکٹر اور صحافی کے کلیجے میں عام آدمی کی طرح کا دل نہیں ہوتا، مگر معصوم بچوں کی کٹی پھٹی لاشیں، بکھرے ہوئے اعضاء اور خواتین کی حددرجہ مظلومانہ اور بے بسی کی شہادتوں نے عالمی ذرائع ابلاغ کے نمایندوں کو بھی رُلادیا۔
دنیا بھر میں رہنے والے مسلمان بلکہ مسلمان کیا ہر انصاف پسند انسان اس وقت غم و اندوہ میں ڈوبا ہوا اور سراپا احتجاج ہے۔ گلی گلی، شہر شہر احتجاج ہورہا ہے۔ جلسہ جلوس، تقاریر اور تحاریر کے ذریعہ اس المناک انسانی المیہ کی مذمت ہورہی ہے، مگر اگر شرمناک بے حسی

اور مجرمانہ کوتاہی کا ثبوت دیا ہے تو مسلم ممالک کے حکمرانوں اور خاص کر عالم عرب کی حکومتوں نے دیا ہے۔ بعض عرب ممالک کے سربراہوں نے زیرلب رسمی سی مذمت پر اکتفا کیااور اکثریت نے خاموش رہ کر اسرائیل کی تایید کا طرزِ عمل دہرایا۔ فلسطینی غم زدوں کے لیے قریبی سہارا عرب ممالک ہوسکتے تھے، مگر آج ان کی مظلومیت اور بے بسی ملاحظہ ہو کہ پورا عالم عربی کان میں تیل اور آنکھوں پر پٹی چڑھائے ان کی دردناک فریادوں اور چیخوں کو سننے اور ان کا درد سمجھنے سے انکاری ہے۔ پاکستانی حکمرانوں نے بھی روایتی اور رسمی مذمت پر اکتفا کیا۔ ہمارے حکمران ہر دور میں عوامی جذبات کو سمجھنے یا اس کو وزن دینے سے پہلو تہی کرتے رہے۔ آج بھی ایک ترکی کے استثناء کے ساتھ بدقسمتی سے پورے عالم اسلام میں کوئی ایک حکومت ایسی نہیں جو بین الاقوامی معاملات میں اپنی رعایا کے جذبات کی ترجمانی کرسکے یا ایسی خارجہ پالیسی تشکیل دے سکے جو ان کی جنتا کی اُمنگوں کے مطابق ہو۔ عوامی جذبات کی عکاسی فقط انتخابی جلسوں میں ہوتی ہے اور کامیاب ہوتے ہی ایک زوردار یوٹرن لے کر صاحب بہادر امریکا اور طاقتور ملکوں کی چاپلوسی اور کاسہ لیسی کا شرمناک کھیل شروع ہوجاتا ہے۔
پوری مسلم دنیا اپنی سیاسی قیادت سے بیزار ہے۔ اس حقیقت میں کوئی شبہ نہیں کہ اگر صرف عرب دنیا فلسطینی کاز کے لیے متحد و متفق ہوجائے اور اپنے تمام وسائل بروئے کار لائے تو وہ اسرائیلی جارحیت اور اس کی پشت پناہ امریکی دسیہ کاریوں کو مکمل لگام دے سکتی ہے، مگر ناجائز طریقوں سے حکومتوں پر قابض نااہل اور بددیانت حکمران یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے اقتدار کا دوام امریکی تائید و حمایت کا مرہون منت ہے۔ جس دن صاحب بہادر کا مزاج بگڑا تو ہمارے بُرے دن بھی شروع۔ اسی لیے اسرائیل کی مذمت کرتے ہوئے انتہائی باریک بینی سے اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ کہیں امریکا کی تیوری پر بل نہ آجائے۔ یہ رویہ کب تک چلے گا؟ بالآخر ایک دن ان حکمرانوں کو جانا ہے۔ صدام، قذافی، حسنی مبارک کے بعد شاید ایک ایک کرکے سب کا نمبر آجائے، مگر باعث افسوس ہوگا اگر کسی مثبت تبدیلی کی بجائے آسمان سے گرا کھجور میں اَٹکا والا معاملہ ہوا۔ جیسا کہ مصر، لیبیا، شام اور عراق میں دیکھا جارہا ہے۔ بغیر کسی مکمل تیاری اور پلاننگ کے اگر حکومتیں گرا بھی دی جائیں تو نتیجہ اور ثمرہ کسی تیسری طاقت کے حصے میں آتا ہے۔ عالم اسلام کے ساتھ طاغوتی طاقتوں کا یہ کھیل جاری ہے کہ چت بھی میری اور پٹ بھی۔ وہ لوگ بھی ان کے اور ان کو گرا کر انقلاب کے نام پر آنے والے پہلوں سے زیادہ و تادار۔ اللہ تعالیٰ رحم فرمائے اور غزہ کے مظلوم مسلمانوں کی غیب سے نصرت فرمائے۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

Leave a Reply