رحمتوں کی برسات

رحمتِ الٰہی کی گھٹا پھر چھاگئی ہے۔ ہم سب ان خوش نصیبوں میں سے ہیں جنہوں نے ایک دفعہ پھر رحمتوں کی برسات کا مشاہدہ کرنا تھا۔ آقائے دو جہاں، سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک دن گن کر اس ماہ مبارک کا انتظار فرمایا کرتے تھے۔ دو ماہ پہلے سے ہی اللہ تعالیٰ کے حضور ہاتھ پھیلا لیا کرتے تھے کہ یااللہ! رمضان المبارک تک پہنچادیجیو۔ شعبان کے مہینے سے تو گویا رمضان المبارک کی ریہرسل شروع ہوجاتی تھی۔ کثرت سے روزے ہوتے تھے اور رمضان المبارک کی ساعات کی پوری پوری وصولی کی دُعائیں۔ اس مبارک مہینے میں رحمتِ الٰہی جوش میں ہوتی ہے اور طلب کی پھیلی جھولیوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر بھرا جاتا ہے۔ انسان اپنی بساط اور اوقات کے مطابق مانگتا ہے۔ کوتاہ عقل، ناتمام فہم اور بے زبان نطق کے محدود ذرائع ہی تو اس انسان کی کل کائنات ہیں، مگر رحمتِ الٰہی انسانوں کی اس بے بضاعتی کو نہیں دیکھتی، وہ اپنی بے پایاں وسعتوں اور بے کنار رحمتوں کے دھانے کھول دیتی ہے۔ انسان اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں تو پہلے ہی ڈوبا ہوا ہے، اس مہینے تو بارانِ رحمت میں بھیگ بھیگ جاتا ہے۔
پہلا عشرہ چل رہا ہے۔ یہ صفائی کا عشرہ ہے اور یہ مہینوں، سالوں کا زنگ دھوتا ہے۔ اس زنگ کو اُتارے بغیر کوئی چارہ بھی نہیں، زنگ آلود دل میں معرفتِ الٰہی کی برق دوڑے تو کس طور دوڑے؟ لامحالہ اس کو مانجھنا پڑے گا۔ استغفار اور توبہ دو ایسے مانجھنے ہیں جو پوری قوت سے دل پر رگڑے جائیں تو دل کو چمکاکر منور کردیں۔ پہلے عشرہ کا یہ کام اگر صحیح ہوجائے تو باقی دونوں عشروں کی بھرپور وصولی ممکن ہے۔ توبہ سے ابتدا کیجیے۔ استغفار کو شِعار بنائیے۔

فقط زبان پر توبہ توبہ کے بول نہیں، بلکہ دل میں ندامت، آیندہ نہ کرنے کا عزم اور کیے ہوئے پر پچھتاوا اور اگر کوئی کفارہ یا تلافی شریعت نے مقرر کی ہو تو فی الفور ادائیگی۔ یہ اجزائے ترکیبی ہیں توبہ کے۔ ایک رکن بھی کم ہوا تو توبہ کامل نہ ہوگی۔
حقوق العباد کی طرف سے عام طور پر غفلت ہے۔ اس عشرہ میں اس طرف بھی توجہ ہو۔ اطمینان سے بیٹھ کر اپنے اوپر عائد حقوق و فرائض اور واجبات کا جائزہ لے لیجیے۔ جہاں جہاں کوتاہی محسوس ہو اس کو باقاعدہ لکھ لیجیے اور پھر سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑا کر اس تقصیر پر معافی مانگیے اور پھر اس کی تلافی یا ادائیگی کے لیے کمر ہمت باندھ لیجیے۔ اس مہینے کی ایک اہم خصوصیت توفیقات کی ارزانی ہے جو کام آپ سے سال بھر نہیں ہونے کا، وہ آج ایک دن میں ہوجائے گا۔ جن کاموں کے بارے میں آپ سوچ سوچ کر رہ جاتے ہیں ان کو انجام دے ڈالیے۔
رمضان المبارک کے اس اوّلین عشرے میں پیدا ہونے والے جوش و خروش سے فائدہ اُٹھائیے۔ بزرگوں کا کہنا ہے کہ ’’کیفیات‘‘ مہمان ہوتی ہیں، اگر ان کا صحیح اکرام کیا جائے تو رہتی ہیں ورنہ چلی جاتی ہیں۔ رمضان المبارک کے آغاز میں ہم سب کو ایک خاص کیفیت نصیب ہوتی ہے۔ خوش نصیب اس کو ہاتھوں ہاتھ لے کر اس میں روز افزوں اضافہ کرتے چلے جاتے ہیں اور کم نصیب اس کی ناقدری کرکے ٹھکرا بیٹھتے ہیں اور نتیجتاً رمضان المبارک میں بھی یوں تہی دامن بیٹھے ہوتے ہیں گویا رحمتوں کی اس برسات میں ایک بوند بھی ان کا مقدر نہ ہو۔
رمضان کو قرآن سے گہرا تعلق ہے۔ قرآن کو اُتارنے کے لیے ’’شھر رمضان‘‘ کا انتخاب بلاوجہ نہیں۔ کتاب اللہ سے اپنے ٹوٹے رشتے جوڑنے کے لیے موقع کو غنیمت جانیے۔ تلاوت اور تدبر دونوں کو معمول بنائیے۔ علماء کرام خصوصی درسِ قرآن کی مجالس برپا کریں اور عوام الناس جوش و خروش سے شرکت فرمائیں۔
آخری بات جو رمضان المبارک کی وصولی میں سب سے مفید اور مؤثر ثابت ہوسکتی ہے، وہ ’’صحبت صلحائ‘‘ ہے۔ اللہ والوں کا رمضان عجیب و غریب ہوتا ہے اور دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ شیخ الحدیث قطب الاقطاب حضرت مولانا زکریا کاندھلویؒ نے تو ایک خاص رسالہ اس ضمن میں مرتب فرمایا ہے جس کا نام ہی ’’اکابر کا رمضان‘‘ ہے کہ پتہ چلے کہ اللہ والے رمضان المبارک کس طرح گزارتے تھے۔ اس رسالے کا مطالعہ اگر کیا ہو اور آج ان مناظر کو دیکھنے کی آرزو ہو تو آپ کو ایک جگہ کا پتہ بتاتا ہوں۔
کوہاٹ سے ہنگو کے راستے ’’ٹل‘‘ کی طرف جائیں تو راستہ میں ’’دوآبہ‘‘ کا مشہور اسٹاپ آتا ہے۔ اس پر اُتر کر سات، آٹھ کلومیٹر بائیں طرف چلے جائیے تو ’’کربوغہ شریف‘‘ کا مشہور و معروف قصبہ ہے۔ ایک زمانے میں اس کی وجۂ شہرت حضرت مولانا سیّد عمر شاہ صاحب تھے جو اخوند عبدالغفور باباؒ المعروف بہ ’’سیدو بابا‘‘ مینگورہ والوں کے خلیفہ مجاز تھے اور آج یہ قصبہ اس لیے شہرئہ آفاق ہے کہ یہاں ریحانۃ الہند، برکۃ العصر، قطب الاقطاب شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ کے خلفیہ اجل، مختار الأمۃ حضرت مفتی سیّد مختار الدین شاہ صاحب دامت برکاتہم کی خانقاہ و مدرسہ ہے۔ یوں توں پورا سال رونق لگی رہتی ہے، مگر ماہِ مبارک میں پورے ملک اور بیرونِ ملک سے اہلِ قلوب کے ٹھٹھ لگتے ہیں۔ اربابِ دل اور ذاکرین کا کثیر مجمع ہوتا ہے۔ اللہ کا نام لے کر رونے والے اور اللہ کی یاد میں تڑپنے والوں نے عجیب قیامت کا ماحول برپا کیا ہوتا ہے۔ یہاں پہنچ کر پتہ چلتا ہے کہ رمضان کیسے گزارا جاتا ہے، دُعا کس کو کہتے ہیں اور مناجات کیا ہوتی ہے۔ اللہ کے پاک نام میں حلاوت کیسی ہوتی ہے اور نماز کی توجہ کس کو کہتے ہیں۔ تلاوت میں تدبر کیسے پیدا ہوتا ہے اور اللہ کا عشق کیونکر ہوتا ہے۔ موقع ملے بلکہ نہ ملے تو موقع بناکر اس رمضان المبارک میں ایک دفعہ علم و عرفان کے اس مرکز کے مناظر بھی دیکھ لیجیے گا۔ شاید ایسے مناظر آپ نے آج تک کتابوں میں حضرت اقدس مختار الأمۃ مفتی سیّد مختار الدین شاہ صاحب کی عمر اور علم و عمل میں برکت دے اور حضرت کا مبارک سایہ تادیر ہم سب عقیدت کیشوں کے سروں پر قائم رکھے۔ آمین یا ربّ العالمین۔

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

Leave a Reply