دینی جماعتوں کا اتحاد… وقت کی ضرورت

اسلام آباد میں مجلس احرار اسلام کی کوششوں سے دیوبندی مکتب فکر سے تعلق رکھنے والی مذہبی اور سیاسی جماعتوں کا جو اجلاس ہوا وہ بہت خوش آیند ہے اور ہر لحاظ سے قابل تحسین ہے۔ عالمِ اسلام میں بالخصوص اور پوری دنیا میں بالعموم جو تبدیلیاں تیزی سے رونما ہورہی ہیں اور جس طرح پوری دنیا کے نقشہ کو تبدیل کرنے اور اسلامی ملکوں کو نئی جغرافیائی حدود میں بانٹنے کا عمل جس چالاکی و چابک دستی سے ہورہا ہے اس کا تقاضہ ہے کہ پاکستان میں ملک و ملت کے خیرخواہ سر جوڑ کر بیٹھیں اور ہر وقت اس طوفان کے آگے بند باندھنے کی تدابیر بروقت سوچیں جس کی سرکش موجیں اب ہمارے ساحلوں سے ٹکرارہی ہیں۔

اس قسم کی ایک کوشش سانحہ تعلیم القرآن کے بعد بھی ہوئی تھی، مگر اس اولین مجلس کے بعد اس حوالے سے کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ اب دوبارہ یہ کاوش مجلس احرار اسلام اور اس کے جہاندیدہ و سرگرم چشیدہ رہنما حضرت سیّد عطاء المؤمن شاہ بخاری صاحب کے اخلاص و دردِ دل کی مرہون منت ہے جس کے لیے تمام جماعتوں کے کارکنان دست بدعا رہے کہ اللہ تعالیٰ اب اس کوشش کو قبول اور ثمر خیز و نتیجہ انگیز فرمائے۔

اس اجلاس کی جو رُوداد سامنے آئی ہے اس کو سن کر چند باتوں کی طرف مخلصین امت کی توجہ دلانی مناسب سمجھی۔

پہلی بات تو یہ کہ مؤثر اور بڑی جماعتوں کی قیادت تو لازمی طور پر اور چھوٹی جماعتوں کی قیادت استحبابی طور پر اگر اس اجلاس سے پہلے کچھ سائڈ میٹنگز کرکے اپنے گلے شکوے انہیں مجالس میں کرلیا کریں اور پھر مرکزی اجلاس میں انتہائی سنجیدگی سے مرکزی ایجنڈے کے اتفاقی نکات کو اسٹیبلش کرنے کی بھرپور کوشش کریں تو زیادہ مناسب ہوگا۔ بہت سے رہنمائوں کا طرزِ عمل ایسا ہوتا ہے کہ گویا اسی اجلاس میں دل کی تمام بھڑاس نکالنی ہے جس سے نہ صرف ماحول مکدر ہوتا ہے، بلکہ اتفاقی نکات سے توجہ بھی ہٹتی ہے۔ اس کی ایک صورت یہ ہوسکتی ہے کہ اس قسم کے اجلاس 2 روزہ ہوں جس میں پہلے دن مرکزی قیادتوں کو باہم ون ٹو ون میٹنگز ہوں جس میں کوشش ہو کہ ایجنڈے پر زیادہ سے زیادہ اتفاق رائے پیدا کیا جائے۔ نیز ایک دوسرے جو کہنا سننا ہے وہ ان سائڈ میٹنگز میں کہہ سن لیا جائے اور مرکزی اجلاس کو ہر قسم کی جذباتیت، سطحیت اور انفرادی ایجنڈوں کو آگے بڑھانے کے طرزِ عمل سے دور رکھا جائے۔

اسی طرح اس 2 روزہ اجلاس کے پہلے دن کا کچھ حصہ عالم اسلام کی مجموعی صورتحال اور ملک عزیز کو درپیش مسائل اور دینی تحریکات کو پیش آنے والے ممکنہ خطرات کے حوالے سے محققانہ اور چشم کشا پریزینٹیشن پر مشتمل ہو تاکہ تمام قائدین ایک پیج پر آسکیں۔ اب شام، عراق، لیبیا، چین، چیچنیا، مصر وغیرہ کے حوالے سے تنظیموں کے قائدین کا مستویٰ جدا جدا اور پھر انہی معلومات کی بنیاد پر خیالات میں بہت فرق ہوتا ہے۔ ملک عزیز میں جاری بدامنی و شورش کے بارے میں بھی درست معلومات یا یہ ڈوریں کہاں سے ہلائی جارہی ہیں، اس سے متعلق صحیح معلومات تک رسائی اتنا آسان اور سہل کام نہیں ہے، لہٰذا ایک متفقہ کمیٹی پہلے اس حوالے سے پوری تحقیق اور کامل تدقیق سے مواد فراہم کرکے اس کو درست اعدادو شمار کے ساتھ پیش کرے۔ اس حوالے سے ہمارے ہاں بہت اونچی سطح کی قیادت میں عمومی طور پر ایک کمی دیکھنے میں آرہی ہے اسی لیے جب ہم تبصرہ کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ ہم کس قدر سطحی، ناکافی اور غیرتحقیق شدہ معلومات سے بڑے بڑے نتائج نکال رہے ہیں۔

تیسری بات یہ ہے کہ ان کوششوں کے تسلسل کو جاری رکھنے کے لیے ان اجلاسوں کا باقاعدہ تین سالہ یا پانچ سالہ کیلنڈر بنالیا جائے۔ بہت اچھا ہوگا کہ اگر یہ اجلاس سال میں کم از کم تین دفعہ ہر چار ماہ بعد ہو۔ اسی طرح ان اجلاسات سے کیا نتیجہ درکار ہے، یہ بہت ہی واضح اور منقح طور پر پہلے دن سے سب کے سامنے ہو تاکہ وقتاً فوقتاً اپنی رفتار اور کوششوں کے نتیجہ خیز ہونے یا نہ ہونے کا جائزہ لیا جاسکے۔

باہمی تنازعات کے تصفیہ کے لیے غیرمتنازعہ شخصیات پر مشتمل کمیٹی کا دائرہ کار اور طریقہ کار باقاعدہ مرتب کیا جائے اور اس کمیٹی تک مرافعہ اور اس کا سوموٹو ایکشن دونوں کا طریقہ کار ایک دستوری طرز پر مرتب کرلیا جائے۔ اس سے بہت سی باتیں بڑھنے سے پہلے ختم یا کم کرنے میں مدد ملے گی۔

آخری بات یہ کہ جو لوگ اس سارے مبارک کام کا بیڑہ اُٹھائیں ان کو پہلے آپ کو نام و نمود سے بہت دور ہر ایک کا خادم اور ہر ایک سے مخلص ثابت کرنا ہوگا۔ جماعتوں کا بلاضرورت تعدد اور تنظیموں کی غیرضروری بہتات جن جذبات و کیفیات کا نتیجہ ہیں اگر یہی کیفیت اس مبارک کام کو کرنے والوں میں بھی آگئیں تو بات تو وہیں رہے گی جہاں تھی۔

آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کاوشوں کو قبول فرمائے اور اس کے لیے دردمندی سے کوششیں کرنے والوں کو سرگرمی سے اس مبارک کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی توفیق نصیب فرمائے۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

Leave a Reply