خالق کی پہچان

انسان خالق نہیں ہے۔ وہ تخلیق نہیں کرتا اور نہ کر سکتا ہے۔
خالق وہ ہوتا ہے جو عدم سے کوئی چیز وجود میں لائے۔
انسان نے تو صرف ان کائنات میں موجود چیزوں کو نئی شکل دی ہے اور انکو اپنے استعمال میں لایا ہے۔
اور اسکے لیے اسے عقل عطاء کی گئی ہے تاکہ عقل کے ذریعے سے اس کائنات سے فائدہ اٹھائے، اس میں غور وفکر کرے اور اسی عقل کے ذریعے اپنے خالق اور کائنات کے خالق کو پہچانے ۔
اور جس مقصد کیلئے اسے بنایا گیا ہے وہ مقصد پورا کرے۔

اور عقل کا ہونا خود کمال کی بات نہیں کیونکہ انسان نے عقل کو نہیں بنایا، اگر بنایا ہوتا تو اس عقل پر انسان کو اختیار ہوتا، پھر تو ہر کوئی سائنس دان و فلسفی ہوتا اور ہر کام میں اعلی ماہر ہوتا ۔
کوئی بے وقوف ہی نہ ہوتا۔
ہر شخص چاہتا کہ اسکی عقل زیادہ ہوتی اور کامل اور اعلی ہوتی۔

اب اللہ تعالٰی کے بنائے ہوئے کائنات کے اشیاء کو مختلف شکلیں دے کر انسان خود کو خالق نہیں کہہ سکتا۔
کیونکہ ،
انسان ایک ایٹم تک نہیں بنا سکتا، جتنی چیزیں کائنات میں موجود ہیں، یہ سب بنائی کسی اور نے ہیں،
مثال کے طور پر آپ کے سامنے جو سکرین ہے، اس میں موجود سیلیکون اور کاربن کے مولیکیولز اور ایٹم انسان نے نہیں بنائے بلکہ اللّٰه تعالٰی کے بنائے ہوئے ہیں۔ انسان نے صرف ان کو اللّٰه تعالٰی کی دی ہوئی عقل سے مدد لے کر ان کو جمع کیا ہے اور انکو مختلف شکلیں دے کر، ڈیزائن کرکے انکو اپنے کام میں لایا ہے۔

یہ سورج، چاند ، ستارے، کہکشائیں، کلسٹرز ، سپر کلسٹرز، ان کے درمیان موجود اشیاء، توانائیاں ، ان کے درمیان موجود خلا، گیس کلاؤڈز اور نہ جانے بے شمار دیگر چیزیں،
پھر زمین اور اس میں موجود مادہ ، گیس ، ہوا ، پانی، مٹی، درخت ، پتھر، ایلیمنٹز، بے شمار مالیکیولز ، ایٹمز،
مادہ ، روشنی، تاریکی،
الیکٹرو میگنیٹک ویوز ، بجلی، آگ، یہ سب حقیقت میں کس نے بنائی ہیں ؟ ؟ ؟

انسان جب نہیں تھا، تو بھی یہ چیزیں موجود تھیں، انسان نہ ہو تو بھی جب تک اللّٰه کا حکم ہوگا تب تک یہ رہیں گی۔

گریوٹی کشش ثقل ، مقناطیسی لہریں، قوتیں، ایٹم کے آپس میں اور انکے درمیان کی کشش، یہ سب کس نے بنائی ہیں؟ ؟ ؟
انسان نے تو صرف ان کو دریافت کیا ہے۔

سائنس تو بنیادی طور پر ”انکشاف”
ہے۔ پہلے سے موجود چیز کے اوپر ایک پردہ پڑا ہوا تھا انسان نے اللّٰه تعالٰی کی دی ہوئی عقل کو استعمال کرتے ہوئے ان سے پردہ اٹھایا ہے۔

پھر انکو اپنی استعمال میں لایا ہے اور ان مخلوقات کو مختلف شکلیں دی ہیں۔
بنانے والا تو انسان نہیں۔
اللہ تعالی نے قرآن مجید میں فرمایا ہے،
{وَفِي الْأَرْضِ آيَاتٌ لِّلْمُوقِنِينَ (20) وَفِي أَنفُسِكُمْ ۚ أَفَلَا تُبْصِرُونَ (21)} [الذاريات : 20-21]
اور یقین کرنے والوں کے لئے زمین میں (بہت سی) نشانیاں ہیں۔
اور خود تمہاری جانوں میں بھی،
تو کیا تم دیکھتے نہیں؟

کیا انسان ان نشانیوں کو دیکھ کر اپنی عقل استعمال کرکے ان نشانیوں کے بنانے والے کو جان نہیں سکتا ؟؟؟
اور خود انسان اگر اپنے آپ پر غور کرے تو ہر عقل والا اگر اپنی عقل درست استعمال کرے تو جان سکتا ہے وہ
اتنے پیچیدہ اور منظم انداز میں خود بخود نہیں بنا بلکہ کسی اعلی ذات نے اسے بنایا ہے۔
جس ذات نے باقی منظم اور بہترین نظام والے کائنات کو بنایا ہے۔

ایک ہی انسان ہے اور پھر ہر انسان دوسرے سے مختلف، پھر انسان کے عادات اطوار، زبانیں ، انداز، مزاج مختلف،
خیالات، عقل و فھم مختلف، رزق کی تقسیم مختلف، شکلیں مختلف، حالانکہ ایک ہی جاندار ہے۔ ایک ہی انسان ہے۔

اللہ تعالی نے بار بار اپنی نشانیوں پر غور کرنے کیلئے عقل والوں کو مخاطب کیا ہے۔
{وَسَخَّرَ لَكُم مَّا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِّنْهُ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ} [الجاثية : 13]
اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب کو اپنے (حکم) سے تمہارے کام میں لگا دیا۔ جو لوگ غور کرتے ہیں ان کے لئے اس میں (قدرت خدا کی) نشانیاں ہیں۔

{إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَالْفُلْكِ الَّتِي تَجْرِي فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنفَعُ النَّاسَ وَمَا أَنزَلَ اللَّهُ مِنَ السَّمَاءِ مِن مَّاءٍ فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَبَثَّ فِيهَا مِن كُلِّ دَابَّةٍ وَتَصْرِيفِ الرِّيَاحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ} [البقرة : 164]
بےشک آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے میں اور رات اور دن کے ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے میں اور کشتیوں اور جہازوں میں جو دریا میں لوگوں کے فائدے کی چیزیں لے کر رواں دواں ہیں اور بارش میں جس کو خدا آسمان سے برساتا اور اس سے زمین کو مرنے کے بعد زندہ (یعنی خشک کے بعد سرسبز) کردیتا ہے اور زمین پر ہر قسم کے جانور پھیلانے میں اور ہواؤں کے چلانےمیں اور بادلوں میں، جو آسمان اور زمین کے درمیان گھرے رہتے ہیں۔ عقلمندوں کے لئے (خدا کی قدرت کی) نشانیاں ہیں۔

تحریر: انجنیئر محمد معاذ

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

Leave a Reply