حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو

قومی زندگی گذشتہ دو ہفتوں سے مکمل طور پر مفلوج ہے۔ کاروبار حیات معطل اور نظامِ زندگی جام ہے۔ یہ سطور 16 اگست کی سہ پہر کو لکھی جارہی ہیں اور ہنوز بے یقینی کے گہرے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ ہر چہرہ پر سوال ہے کہ آگے کیا ہوگا؟ ایک سیاسی اور دوسرے انقلابی رہنما نے وفاقی دارالحکومت تک مشتعل ہجوم پہنچادیے ہیں۔ دونوں رہنمائوں کا خیال ہے کہ عوام پر عرصۂ حیات تنگ ہے اور ان کے پاس تمام مشکلات کا حل ہے۔ دونوں کے ایجنڈے الگ الگ، مگر تاریخ ایک ہے۔دونوں کے نزدیک مشکلات کی گرداب سے نکلنے کے راستے جدا جدا، مگر موجودہ نظام کو درہم برہم کرنے کی ترکیب ایک ہی ہے۔  انقلاب کے داعی ’’حضرت‘‘ کو تو ایک جہاں جانتا ہے۔ موجودہ نظام کو جڑ سے اُکھاڑ کر وہ اس حرماں نصیب قوم کو کیا نظام عطا کریں گے، ہنوز یہ بلی تھیلے سے باہر نہیں آسکی۔ تجزیہ نگار پوچھ پوچھ کر تھک گئے کہ چلیے! ہم کچھ دیر کو فرض کرلیتے ہیں کہ موجودہ نظام کی عمارت زمیں بوس ہوگئی، حکمران بھاگ گئے، اسمبلیاں ٹوٹ گئیں، آئین ختم ہوگیا، حکومت رخصت ہوگئی… اب فرمائیے کہ گلشن کا کاروبار چلے تو کس طور چلے؟ اس کے جواب میں فرمایا جاتا ہے کہ جب وقت آئے گا تو بتایا جائے گا کہ آیندہ کیا ہوگا؟ اس سے زیادہ سنگین مذاق اور کیا ہوسکتا ہے کہ کروڑوں افراد کے اس ملک کو ایک مخبوط الحواس شخص کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے جس کے کسی دو بیانات کو اُٹھالیجیے اور ان میں کسی قسم کی مطابقت، تسلسل یا معقولیت کو تلاش کرتے کرتے آپ کے اعصاب چٹخ جائیں گے۔

ایسا لگتا ہے کہ اس ملک میں آیندہ کے لیے اس ناپسندیدہ، قطعی نامعقول اور حد درجہ اذیت ناک روایت کی داغ بیل ڈال دی گئی ہے کہ جس کے پاس 10 ہزار سے لے کر 50 ہزار تک افراد جمع کرنے کی صلاحیت ہو، وہ ہفتوں اور مہینوں تک قومی زندگی معطل کرکے کروڑوں افراد کو یرغمال بناسکتا ہے۔ آزاد ذرائع دونوں مارچوں کے شرکاء کی جو تعداد بتارہے ہیں وہ دونوں رہنمائوں کے بلند بانگ دعوئوں کے برعکس حیرت انگیز بلکہ خوفناک حد تک کم ہے۔ مختلف ذرائع سے آنے والی رپورٹوں میں بہت زیادہ تفاوت اور اعدادو شمار میں حد درجہ تضاد ہے، تاہم اگر ان تمام تجزیوں کو سامنے رکھ کر نتیجہ برآمد کیا جائے تو وہ بہرحال کسی بھی طور پر ان دعوئوں سے میل نہیں کھاتا جو کئی مہینوں سے بڑے تواتر بلکہ بڑی ڈھٹائی سے کیے جارہے تھے۔ ہزاروں کے اس عدد کو ایک لاکھ کہنے کے لیے بھی بڑا حوصلہ چاہیے، مگر اگر انتہائی عدد کو بھی بالفرض مان لیا جائے تو کیا یہ کوئی صحت مند روایت ہے؟ سب سے پہلے یہ دیکھ لیا جائے کہ اس قسم کے ہجوم اکٹھے کرنے کی صلاحیت کس کس میں ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک کی نصف درجن سے زیادہ جماعتیں اس قسم کے ہجوم بہت ہی شارٹ نوٹس پر اکھٹا کرسکتی ہیں۔ تو کیا اب ہر ایرے غیرے کو یہ اجازت ہوگی کہ وہ چند ہزار کا جتھا بناکر وفاقی دارالحکومت پر چڑھ دوڑے اور کہے کہ حکومت میرے حوالے کرو ورنہ نظام نہیں چلنے دیا جائے گا!
ٹھنڈے ملک سے وقتاً فوقتاً آدھمکنے والے حضرت کی ذہنی صحت پر اہل خرد کو ہمیشہ بدگمانی رہی۔ موصوف کی پوری جماعت میں ایک بھی فرد ایسا نہیں جو قومی ذرائع ابلاغ پر اپنے قائد کا ایجنڈا ہی واضح کرسکے۔ گذشتہ دنوں میں تجزیہ نگاروں اور مبصرین کے سامنے ان کی جس طرح گت بنتی رہی وہ ساری قوم کے سامنے ہے۔
دوسرے قائد کے مسئلہ کو سمجھنے کے لیے ان کے دائیں بائیں براجمان شخصیات پر ایک نگاہ ڈالنا کافی ہوگا۔ جس قسم کے لوگ ان کے چاروں طرف جمع ہوچکے ہیں ان کا بائیوڈیٹا ساری کہانی بیان کردیتا ہے۔ افسوس کہ ان کے منہ سے نکلتی جھاگ، کن پٹی کی کھنچی رگیں، پیشانی پر تنی سلوٹیں، بھینچے ہوئے جبڑے اور لہراتے مکے مسائل کا حل نہیں بلکہ نئی ناپسندیدہ سیاسی روایات کی ابتداء ہیں۔ اس ملک میں ایک دوسرے سے شدید ترین اختلافات رکھنے والے قومی و سیاسی رہنمائوں کا طرزِ عمل نئی نسل کے سامنے نہیں تو تاریخ کے اوراق میں تو محفوظ ہے۔ خان عبدالغفار خان، جی ایم سیّد، اکبر بگٹی، خیر بخش مری، نوابزادہ نصر اللہ خان، ولی خان وغیرہ وغیرہ کی سیاست سے شدید ترین اختلاف کرنے والے بھی گواہی دیں گے کہ ان رہنمائوں نے نظریات و خیالات اور طرزِ سیاست میں ایک دوسرے سے 180 ڈگری کا اختلاف رکھنے کے باوجود کسی نہ کسی درجہ میں شائستگی کی روایات کو برقرار رکھے میدان سیاست میں برسرپیکار رہے۔ اب جو طرزِ عمل ایجاد ہوا ہے اس کے مضر اثرات بہت دور تک جانے کا اندیشہ ہے۔ اللہ تعالیٰ قومی و سیاسی رہنمائوں کو عقل سلیم عطا فرمائے اور فقط ہوس اقتدار میں لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنے کے اس مکروہ دھندے سے سب کو توبہ کی توفیق نصیب ہو۔ اس ملک میں غریب اور لاچار عوام کے دُکھوں اور محرومیوں کو کیش کراکر فقط دروغ گو، نااہل قیادت ہی سامنے نہ آئے، بلکہ واقعتا عوام کے مسائل اور پریشانیوں کا درد لیے صالح اور نیک لوگ سامنے آئیں۔ خدا کرے کہ میرے اک بھی ہم وطن کے لیے حیات جرم نہ ہو، زندگی وبال نہ ہو

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

Leave a Reply