حج کا پیغام

دنیا کے ہر گوشے سے فرزندانِ اسلام اپنے مقدس مرکز کی جانب سفر شروع کرچکے ہیں۔ مشرق کے ایک کنارے سے لے کر مغرب کے دوسرے گوشے تک کون سا ملک ایسا ہے جس سے حج بیت اللہ کے لیے احرام نہ باندھے گئے ہوں۔ پتھروں سے تعمیر ہوئے اس گھر کے گرد دیوانہ وار چکر لگاتے لوگوں کی رنگت، زبان، نسل اور ملکوں کا تنوع دیکھ کر پورا عالم ورطۂ حیرت میں پڑجاتا ہے کہ آخر کون سی کشش ہے جو یوں سب کو کشاں کشاں یہاں کھینچے لے آتی ہے؟ آج تو پھر اس صحراء نے تیل کے خزانے اُگل کر صحرا نشینوں کو مالدار کردیا ہے ورنہ تیرہ سو سالوں تک تو یہاں فقط اللہ کا نام ہی ہوتا تھا۔ صحراء تھا، ریت تھی، ٹیلے تھے، گرم موسم اور حجاج کرام ہوا کرتے تھے۔ اس وقت بھی شوق و وارفتگی کی یہی کیفیت اور جذبات کے یہی طوفان تھے اور خلقت تھی کہ اُمڈے چلی آتی تھی۔ آج جب رسل وسائل کے تمام اسباب مہیا اور راحت کے تمام سامان دستیاب ہیں تو بھی بندگانِ خدا ہیں کہ ٹوتے پڑتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس بابرکت گھر پر کچھ ایسی محبت وشوق کی کچھ ایسی تجلی فرمائی ہے کہ یہاں سے لوگوں کا دل بھرتا ہی نہیں۔ جانے والا شوق میں تڑپتا ہے اور واپس آنے والا جدائی و ہجر کا دُکھ لیے آہیں بھرتا ہے۔

تاریخ کا طالب علم ملکوں ملکوں سے آئے ہر رنگ و نسل کے اس ٹھاٹھیں مارتے سمندر کو دیکھ کر چودہ سو سال پہلے کے ورق پلٹ کر دیکھتا ہے تو کنگ سا ہوجاتا ہے۔ اسی بیت الحرام میں ایک دن آخری رسول اور اللہ کے لاڈلے نے نماز کی نیت باندھی تو بدطینت دُشمنانِ خدا جو استہزاء کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھے کہیں سے اونٹ کی اوجھڑی اُٹھا لائے اور اللہ کے محبوب کی کمر پر دھردی۔ کسی نے جگر گوشۂ رسول فاطمہ بتولؓ کو اطلاع دی کہ باپ کی کمر اوجھڑی کے بوجھ سے دوہری ہوئی جارہی ہے۔ راحت جاں فاطمۃ الزہرائؓ دوڑتی ہوئی آئی اور باپ کی کمر سے اوجھڑی ہٹائے بھی جائے اور روتے بھی جائے۔ فاطمہؓ کو روتا دیکھ کر شفقت و محبت کے پیکر نے بیٹی کے آنسو پونچھے اور کہا: ’’فاطمہ! وہ دن دور نہیں جب تیرے باپ کا لایا ہوا دین ہر کچے پکے گھر میں گھس کر رہے گا۔‘‘ پیچھے بیٹھے بدباطن یہ جملہ سن کر ہنس پڑے کہ آج مکہ کی گلیوں میں ہمارے ستم کے شکار کی باتیں تو سنو۔ جس کا پیغام ہم مکہ میں بیٹھ کر نہ سنیں وہ سارے جہاں تک پہنچانے اور سب کے ماننے کی باتیں کررہا ہے۔‘‘
اللہ اللہ آج کوئی جنت البقیع جاکر فاطمۃ الزہراء کو بتادے کہ اللہ کے حبیب کی آنکھوں کی ٹھنڈک آپ کے بابا صلی اللہ علیہ وسلم کا دین ہر کچے پکے گھر میں پہنچ گیا اور آج ہر کچے پکے گھر سے حج کا احرام باندھے آپ کے ابا کے نام لیوا… لبیک اللہم لبیک… لبیک لاشریک لک لبیک… کہتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا اقرار کرتے جوق درجوق اور فوج درفوج اس پاک سرزمین کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے پورے فرماتا ہے اور آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا کہا ہوا ایک ایک فرمان برحق… ’’بلاشبہ، انسان بڑا ظالم اور ظاہر پرست ہے۔‘‘ رسول عربی کے دین کا مذاق اُڑانے والو! یہ حج جہاں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور کبریائی کے آگے جھکی انسانیت کے اقرار و اظہار کا سب سے بڑا مظہر ہے وہاں رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت و نبوت کی عظمت و شوکت کا بھی دلربا منظر ہے۔ دیکھو صحرا نشینوں میں برپا کیے جانے والے پیغمبر کا پیغام کس طرح دنیا کے گوشوں تک پہنچا اور پھر دنیا نے اس کا کیا والہانہ و عاشقانہ جواب دیا۔ حضرت ابراہیمؑ نے خانۂ خدا کی بنیاد رکھتے ہوئے جو آواز لگائی آج کیسے محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام لیوا اس پر لبیک کہتے ہوئے پروانہ وار خانہ خدا پر نثار ہورہے ہیں۔ حج کی نعمت سے سرفراز ہونے والے حاجی کے جذبات و احساسات کا تو کیا کہنا۔ اس منظر کو سوچنے والے جس کیفیت سے گزرتے ہیں یہ تو کوئی اہلِ ایمان ہی سے پوچھے۔ یااللہ! اپنے پاک پیغمبر علیہم السلام کے نام لیوائوں کے عشق و محبت اور شوق و وارفتگی کی ترجمانی کرنے والے ان مناظر کو اس دینِ حق سے محروم لوگوں کی ہدایت کا ذریعہ بنادے۔ آمین یا ربّ العالمین۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

Leave a Reply