تعلیم کے تیزاب میں ڈال اس کی خودی کو

خیبرپختونخوا میں صوبائی حکومت نیا نصاب متعارف کرانے جارہی ہے۔ نئی کتب کی جس قدر تفاصیل دستیاب ہوسکیں، وہ بڑی ہوشربا ہیں۔ مدتوں سے مغربی دنیا کا یہ خیال ہے کہ پاکستانی عوام کی اپنے مذہب سے جذباتی لگائو میں سب سے بڑا قصور ہمارے نصاب کا ہے۔ اس سلسلے میں سب سے زیادہ سب و شتم اور الزام و دشنام کا شکار جنرل ضیاء الحق مرحوم رہتے ہیں۔ مغرب زدہ آزاد خیال خواتین دانت چبا چباکر مرحوم کو ’’ایصالِ ثواب‘‘ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتیں۔ جنرل صاحب مرحوم کو اس دارِفانی سے رخصت ہوئے 26 برس ہوچکے ہیں۔ ان کے بعد پیپلز پارٹی کی تین اور پرویز مشرف کی ایک طویل ترین حکومت گزرچکی ہے، مگر اب تک نصاب کو مغربی دنیا کے مطلوب معیارات تک پہنچانے کی کوششیں پورے شد و مد سے جاری ہیں۔ جنرل پرویز مشرف صاحب تو اس مد میں بین الاقوامی برادری سے اچھی خاصی تگڑی رقم بھی بار بار ہتھیاتے رہے اور اپنے نصاب کو ان کی خواہشات کا تختہ مشق بنائے رکھا۔ اقوام متحدہ کے خصوصی سفیر برائے تعلیم اور برطانیہ کے سابق وزیراعظم گورڈن برائون صاحب بھی اس سلسلے میں بار بار پاکستان حاضری دے چکے ہیں۔

ایک مرتبہ تو انہوں نے چاروں صوبوں اور وفاقی وزرائے تعلیم و سیکریٹری تعلیم حضرات کی پانچ چھ گھنٹہ طویل میٹنگ کی صدارت بھی فرمائی۔ وفاق اور صوبوں کو ’’گائیڈ لائنز‘‘ فراہم کیں اور اپنے واضح کردہ خطوط پر چلنے کی صورت میں بھرپور مالی معاونت بلکہ تمام اخراجات برداشت کرنے کی نوید جانفزا بھی سنائی گویا کہ یوں فرمایا کہ ’’اپنے نونہالوں کو فکری و نظریاتی طور پر ہمارے حوالے کردو اور اس پر آنے والے تمام خرچے ہمارے ذمے۔


٭ سب سے بڑی ذمہ داری جمعیت علماء اسلام اور جماعت اسلامی کی ہے کہ وہ صوبائی کابینہ میں اپنے حجم کا فائدہ اُٹھاکر اسمبلی کے اندر اور باہر ان تبدیلیوں کو مسترد کرتے ہوئے منظم تحریک چلائیں ٭

پنجاب میں صوبائی حکومت نے گزشتہ کئی سال سے چند ’’رضاکار‘‘ غیرملکی مشیرانِ تعلیم کی خدمات حاصل کی ہوئی ہیں تو بڑی عرق ریزی سے ہمارے تعلیمی نظام کے خاکے میں اپنے رنگ بھررہے ہیں۔ ان ماہرین تعلیم کے اخراجات بھی پنجاب حکومت کے ذمے نہیں اور اس ’’بچت‘‘ پر حکومت صبح شام کہتی ہے کہ چلو خرچہ تو ہمارے ذمہ نہیں، مگر سب سے بڑا ’’انقلابی‘‘ قدم خیبرپختونخوا حکومت نے اُٹھایا ہے جس کی تفصیلات اخبارات میں شائع ہوچکی ہیں۔ مغربی این جی اوز اور انٹرنیشنل ڈونرز کے تعاون اور ان کی ہدایات کے تحت بننے والے نصاب سے کس قسم کی نسل تیار کرنے کی کوشش کی گئی ہے، اس کا اندازہ کی جانے والی تبدیلیوں سے لگایا جاسکتا ہے۔ بطور نمونہ پانچویں جماعت کی معاشرتی علوم کو لے لیجیے۔ اس کتاب سے سیدۃ خدیجۃ الکبریؓ، حضرت فاطمۃ الزہراؓ، سیّدنا امام حسینؓ، محمد بن قاسمؒ، محمود غزنویؒ، اورنگزیب عالمگیرؒ اور حضرت شاہ ولی اللہؒ کے تذکرے اور ابواب نکال کر ان کی جگہ نیلسن منڈیلا، کارل مارکس، مارکوپولو، واسکو ڈی گامے اور نیل آرمسٹرانگ کے احوال ڈال دیے گئے ہیں۔
اسی طرح سیرت طیبہ اور خلفائے راشدین کی سیرتوں اور قرآنی سورتوں اور آیات کو بھی ’’کٹ ٹو سائز‘‘ کرکے مغربی معیارات پر پورا اُترنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ’’نئے پاکستان‘‘ کے حوالے سے اس نوعیت کے تحفظات اور اشکالات تھے جس کا اظہار اہل فکر و نظر کافی عرصے سے کررہے تھے۔
صوبہ خیبرپختونخوا میں نئے نصاب پر ہونے والے مسلسل اعتراضات اب ایک احتجاجی تحریک کی صورت اختیار کرتے جارہے ہیں۔ متعدد مذہبی و سیاسی جماعتوں نے اس حوالے سے اپنی حکمت عملی تیار کرلی ہے۔ صوبائی حکومت خاص دفاعی پوزیشن پر آگئی ہے۔ کوئی وجہ نہیں ہے کہ اگر اس کے خلاف عوامی بیداری اور رائے عامہ کو منظم کرنے کی ایک بھرپور مہم چلائی جائے تو یہ تمام نئے فیصلے دریا برد نہ ہوں۔ اس حوالے سے سب سے بڑی ذمہ داری جمعیت علماء اسلام اور جماعت اسلامی کی ہے کہ وہ صوبائی کابینہ میں اپنے حجم کا فائدہ اُٹھاکر اسمبلی کے اندر اور باہر ان تبدیلیوں کو مسترد کرتے ہوئے منظم تحریک چلائیں تاکہ آیندہ اس قسم کے عزائم رکھنے والوں کے ارادے خاک میں ملیں اور ہم اپنی نئی نسلوں کو تباہ ہونے سے بچاسکیں۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

Leave a Reply