تعلیم کو ترجیح بنانا ہوگا

اس دفعہ تیسری صوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس کی میزبان حکومت آزاد کشمیر تھی اور مشاورتی کمیٹی کے ممبران کی حیثیت سے ہم بھی مدعو تھے۔ اس سے قبل وفاقی حکومت کی میزبانی میں 3 ماہ قبل بھی یہی کانفرنس اسلام آباد میں ہوچکی تھی۔ اس بات کی خوشی ہے کہ وزارت تعلیم کا قلمدان انجینئر محمد بلیغ الرحمن صاحب کے پاس ہے جو بہاولپور سے قومی اسمبلی کے ممبر ہیں اور بہت اچھے خیالات کے آدمی ہیں۔ جب سے انہوں نے تعلیم کی وزارت کا قلمدان سنبھالا ہے اس وقت سے پورے شعبہ میں ایک نئی روح دوڑا دی ہے۔ ورنہ اٹھارویں ترمیم کے بعد سے یہ وزارت تقریباً بے روح ہوچکی تھی۔ اگرچہ بہت سے اختیارات صوبوں کو منتقل ہوچکے ہیں، مگر صوبوں کے درمیان کوآرڈینیشن اور ان کو مکمل رہنمائی و مشاورت فراہم کرنا بہرحال وفاق ہی کا کام ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ وفاق میں موجود افراد اپنی ذمہ داریوں کی نزاکت اور اہمیت سے بخوبی واقف ہوں۔

 یہ بات اطمینان بخش ہے کہ وفاق کی تمام اکائیاں اس بات پر متفق ہیں کہ نظامِ تعلیم کا اسلام سے رشتہ لازوال اور دائمی ہے اور کسی بھی قسم کے سیاسی حالات اس پر اَثرانداز نہیں ہوسکتے۔ سیاسی لوگ چاہے جیسے بھی ہوں ان میں یہ خوبی ہوتی ہے کہ عام لوگوں کے خیالات، جذبات اور ترجیحات سے بخوبی واقف ہوتے ہیں اور ان کی سیاسی مجبوریاں لوگوں کی متفقہ آراء سے ہٹ کر چلنے کی اجازت نہیں دیتی، چونکہ پاکستان کی 90 فیصد سے زائد عوام گہرے اور راسخ قسم کے مذہبی جذبات رکھتی ہے، اس لیے کسی بھی سیاسی حکومت کے لیے اس کو نظرانداز کرنا آسان نہیں۔ اٹھارویں ترمیم میں تعلیم کے حوالے سے کچھ متنازعہ فیصلے ہوئے جس کے نتائج اب سامنے آرہے ہیں۔ ایک تو نصاب سازی کا بہت باریک اور پیچیدہ کام صوبوں کے حوالے ہوگیا جس سے ایک قومی نصاب کے بجائے علاقائی و صوبائی نصاب وجود میں آگئے۔ پہلے ہی لسانی، علاقائی، مذہبی تقسیم میں بٹی ہوئی قوم کو مزید باٹنے کی یہ کوشش تھی۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ انتظامی فیصلے بے شک صوبوں کے حوالے ہوں، مگر نظریہ اور وژن پورے ملک کا ایک ہو، تاکہ ہم صوبائی سوچ کے بجائے ایک قومی سوچ رکھنے والی نسل پیدا کرسکیں۔ صوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس کا ایک بڑا فائدہ یہ نظر آرہا ہے کہ اب اس فورم پر باہم مل بیٹھ کر تمام صوبے زیادہ سے زیادہ چیزوں پر متفق ہوسکیں گے۔ واضح رہے کہ اس کانفرنس میں پانچوں صوبوں، آزاد کشمیر، فاٹا وغیرہ کے صوبائی وزرائے تعلیم، صوبائی سیکریٹری تعلیم سمیت محکمہ تعلیم کے تمام اہم افسران شریک ہوتے ہیں۔

اسی کانفرنس میں خیبرپختونخواہ کے وزیر تعلیم عاطف خان صاحب سے بھی تفصیلی ملاقات ہوئی اور ان کو خیبرپختونخواہ کے نصاب کے حوالے سے پائی جانے والی تشویش سے آگاہ کیا۔ خوشی ہوئی یہ سن کر کہ ان کو ان تبدیلیوں کو برقرار رکھنے پر کوئی اصرار نہ تھا، بلکہ ان کا موقف یہ تھا کہ یہ نصاب ANP کی حکومت کے زمانے کا تیار کردہ ہے اور ہماری ترجیحات پر مشتمل نہیں ہے، لہٰذا ماہرین تعلیم اس میں جو تبدیلیاں ضروری سمجھیں گے، ہم کو ان پر کوئی اعتراض نہ ہوگا۔

صدر آزاد کشمیر نے کانفرنس کا افتتاح کیا اور بڑی محبت و گرمجوشی سے تمام مہمانوں کا مظفرآباد آمد پر بار بار شکریہ ادا کیا۔ اپنے صدارتی خطبے کے بعد وہ مہمانوں کی نشستوں پر گئے اور فرداً فرداً ہم سب کو خوش آمدید کہا۔ اس کانفرنس کا حاصل ’’قومی کمیٹی برائے نصاب سازی‘‘ کا قیام تھا جس کے بعد یہ اُمید پیدا ہوچلی ہے کہ ہم پھر سے ایک متفقہ نصاب کی طرف بڑھ سکیں گے اور اپنی نئی نسلوں کے اذہان کو صوبوں اور علاقوں تک محدود کردینے والے مواد کے بجائے آفاقی تعلیمات دے سکیں گے۔ اسی طرح دینی تعلیم کے حوالے سے جو سقم اور تشنگی ہمارے نصاب میں ہمیشہ سے رہی ہے، اس کے تدارک کے لیے بھی غور و فکر ہوا۔ امید ہے کہ پیش ہونے والی تمام تجاویز فقط فائلوں کے پیٹ میں نہیں رہیں گی، بلکہ ہمارے نظامِ تعلیم کی رَگوں میں خون بن کر دوڑیں گی۔

1 reply
  1. hussain afridi
    hussain afridi says:

    A single stream of education is the need of ummah not just pakistan to joint muslims ofthe world and restore our previous gloryof khilafat in ummah

    Reply

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

Leave a Reply