اک مردِ حق آگاہ تفصیلات

انہوں نے میوات کے ایک دیہاتی کو وضو کرتے دیکھا۔ اس شخص نے ہاتھ دھوئے اور پھر جیب میں ہاتھ ڈالا۔ ساتھ ہی اس کے منہ سے نکلا: ’’آہ! میری مسواک۔‘‘ وہ حیران ہوئے۔ اس سے پوچھا: ’’کیا ہوا؟‘‘ بولا: ’’میری مسواک غائب ہے۔‘‘ فرمایا:’’تو کیا ہوا۔ دوسری مسواک لے لینا۔‘‘ کہنے لگا: ’’مسواک کاغم نہیں۔ غم اس کاہے مسواک کی سنت چھوٹ گئی۔ مسواک کے ساتھ وضو کرکے نماز پڑھنے کا جو ثواب ہے اس سے محروم ہوگیا۔‘‘ وہ عالم فاضل اورمدرس تھے۔ ان کے علم وتقویٰ کی اپنے علاقے میں خوب شہرت تھی، مگر اس میواتی کی اتباعِ سنت کاجذبہ دیکھ کر انہیں اپنا ہر کمال ہیچ محسوس ہوا۔ سوچ میں پڑگئے ایک عام آدمی اور سنت کی اتنی فکر! آخرکیسے؟ دل میں ہل چل مچی تو پوچھ ہی لیا کہ یہ تڑپ کہاں سے سیکھی؟ جو اب ملا: ’’مولانا الیاسؒ کی جماعت سے۔‘‘ پھر کیا تھا۔ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اسی جماعت سے وابستہ ہوگئے۔ اللہ کے دین کی دعوت لے کر نکل پڑے۔ شہر شہر، کوچہ کوچہ اور بستی بستی دعوت دی۔ اس دوران ایسی قربانیوں کی مثال پیش کی کہ خود اکابرِ تبلیغ ان کے ایثار، ولولے اور اخلاص کے گروید ہ ہوگئے۔ ان کی زندگی اب تبلیغ کے لیے وقف تھی۔ رائے ونڈ مرکز سے وابستہ ہوئے۔ اسی کے مدرسے میں تدریس کی خدمت سنبھال لی۔ اس سے قبل وہ علوم و فنون کی اعلیٰ کتب پڑھاتے تھے۔ رائے ونڈ کے مدرسے میں انہیں نورانی قاعدہ پڑھانے کی خدمت سونپی گئی۔ بخوشی یہ خدمت قبول کی۔ ایک مدت تک نورانی قاعدہ ہی پڑھاتے رہے۔ اس اخلاص و للہیت پر اللہ نے انہیں وہ عزت دی کہ آخر اس بین الاقوامی شہرت یافتہ عظیم الشان درسگاہ کے شیخ الحدیث اور صدرِ مدرس بن گئے۔ یہ رائے ونڈ مرکز کے روحِ رواں، امیرِ تبلیغ پاکستان حاجی عبدالوہاب صاحب کے دستِ راست، حضرت مولانا جمشید علی خان صاحب تھے جو 3 نومبر کو لاکھوں عقیدت مندوں کو سوگوار چھوڑ کر اپنے ربّ کے حضور پہنچ گئے۔ ان کی عمر 85 برس کے لگ بھگ تھی۔ وہ 1928ء میںیوپی کے قصبے کیرانہ مظفر نگر میں پیدا ہوئے۔ مقامی اسکول میں پرائمری تک تعلیم حاصل کی۔ بچپن میں ایک مدت تھانہ بھون میں بھی گزاری۔ حضرت حکیم الامت تھانویؒ کے گھر کے خادم کی حیثیت سے مشہور ہوئے۔ پھر قرآن مجید حفظ کرکے مدرسہ مفتاح العلوم مظفر نگر میں حضرت تھانویؒ کے خلیفہ حضرت مولانا مسیح اللہ خان جلال آبادیؒ کے ہا ں درس نظامی میں داخلہ لیا۔ علومِ عالیہ کی تحصیل کے لیے آپ 1951ء میں دارالعلوم دیوبند پہنچے۔ دورۂ حدیث میں مولانا حسین احمد مدنیؒ، مولانا ابراہیم بلیاویؒ اور مولانا اعزاز علیؒ جیسے اکابر و مشائخ سے فیض حاصل کیا۔ 1952ء میں آپ ہندوستان سے نقل مکانی کرکے پاکستان تشریف لے آئے۔ دارالعلوم ٹنڈوالٰہیار میں تدریس شروع کی۔ یہاں 12سال کی تدریس کے دوران آپ کے علم وفضل کی شہرت دور دورتک پھیل گئی۔ پھر 1964ء میں وہ واقعہ پیش آیا جس نے آپ کو تبلیغ کے لیے وقف کردیا۔ ٭ دنیا میں بہت سے لوگ آتے اور چلے جاتے ہیں، مگر کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی حیات قابلِ تحسین اور وفات قابلِ رشک ہوتی ہے۔ ٭ اس وقت حضرت جی مولانا یوسف کاندھلویؒ حیات تھے۔ آپ کو ان کی صحبت بھی حاصل رہی۔ 1965ء میں حضرت جیؒ کی وفات کے بعد مولانا انعام الحسنؒ رئیس تبلیغ مقرر ہوئے تو آپ کو تبلیغی اسفار اور اجتماعات میں ان کا بے حد قرب نصیب رہا۔ سالہا سال تک علومِ اسلامیہ کے مطالعے اور تدریس نے ان کے سینے کو علم تفسیر و حدیث کا گنجینہ بنادیا تھا۔ اس لیے صحاحِ ستہ سمیت کتنی ہی کتب کا خاصا حصہ انہیں زبانی یاد تھا۔ ابتدا میں ان کے تبلیغی بیانات علمی جواہر سے لبریز ہوتے۔ آیات و احادیث کے متون کا تانتا باندھ دیتے۔ آخر حاجی عبدالوہاب صاحب نے انہیں نصیحت کی کہ تبلیغ کے بیانات ایسے عام فہم ہونے چاہییں کہ ہر شخص انہیں سمجھ سکے۔ کسی کویہ خیال پیدانہ ہو کہ میں تبلیغ نہیں کرسکتا۔ اس کے بعد مولانا جمشید کے بیانات کا انداز تبدیل ہوگیا۔ بیانات میں انہوںنے سجع بندی اور ترنم کے ساتھ ایسی خوب صورتی پیدا کی کہ کیا شہری کیا دیہاتی، سبھی ان کے بیان کے دوران خود کو بھول جاتے۔ حاجی عبدالوہاب صاحب مدظلہ ان سے بہت محبت کرتے تھے۔ انہیں پیار سے ’’مُنّا‘‘ کہہ کر یاد کرتے تھے۔ حاجی صاحب ان کے اس منفرد طرزِ بیان پر فرمایاکرتے تھے: ’’ہمارامُنّا سُر میں بیان کرتا ہے۔‘‘ بیان کے دوران ’’اللّٰہُ اَکْبَرْ کَبِیْرًا، وَالْحَمْدُلِلّٰہِ کَثِیْرًا، سُبْحَانَ اللّٰہِ بُکْرَۃً وَّاَصِیْلًا‘‘ کی پکار سماں باندھ دیا کرتی تھی۔ ایک بار دینی مدارس و مراکز کے گرد گھیر اتنگ کیا جارہا تھا۔ جگہ جگہ پوچھ گچھ کی جارہی تھی۔ ایک تفتیشی آفیسر رائے ونڈ مرکز بھی آیا۔ اسے مولانا جمشید صاحب کے پاس بھیج دیا گیا۔ آفیسر نے کھڑے کھڑے کچھ سوالات شروع کردیے اور پوچھا: ’’آپ کاتعلق کس فرقے سے ہے؟‘‘ حضرت نے بے ساختہ کہا: ’’ہم ہیں سب کے، سب ہیں ہمارے، ہم ہیں ربّ کے، ربّ ہیںہمارے۔‘‘ وہ آفیسر دم بخود رہ گیا۔ یہ کہتے ہوئے واپس گیا کہ ایسا سچا اور اچھا جواب میں نے کہیں نہیں سنا۔ حضرت کی دعائیں اکثر قبول ہوتی تھیں۔ اس لیے مستجاب الدعوات مشہور تھے۔ ایک بار بعض حکومتی اعلیٰ افسران نے رائے ونڈ مرکز کے اکابر کو ہراساں کرنے کی کوشش کی۔ حاجی عبدالوہاب صاحب نے فرمایا: ’’ہم مُنّے کو کہہ دیں گے، وہ ہاتھ اُٹھا کر دعا کرے گا اور…‘‘ یہ سن کر ان لوگوں پر اتنی دہشت طاری ہوئی کہ معذرت کرتے ہوئے واپس چلے گئے۔ حضرت کی دعائیں قبول ہونے کے واقعات بکثرت ہیں۔ چند دن پہلے ایک واقعہ سنا۔ ایک دوست بے اولاد تھے۔ ہر تدبیر آزما کر دیکھ لی، مگر بے سود۔ کسی نے کہا: ’’حضرت سے جاکر دعا کرالیں۔‘‘ وہ گئے۔ اپنا دُکھڑا بیان کیا۔ حضرت نے ہاتھ اٹھائے اور زیرلب کچھ پڑھا۔ چار پانچ سیکنڈ کی دعا تھی۔ بہت جلد وہ دوست اولاد کی دولت سے مالا مال ہوگیا۔ جو بھی دعا کرانے آتا، حضرت اسی طرح زیرلب دعا کرتے اور اکثر و بیشتراس کا کام بن جاتا۔ مولانا جمشیدؒ علمی لحاظ سے بہت بلند مقام پر تھے۔ رائے ونڈکی درس گاہ میں ان کا دورِ تدریس کئی عشروں پر محیط ہے۔ ان کے ہزاروں شاگرد ہیں جن میں مولانا طارق جمیل جیسے عالمی شہرت یافتہ مبلغ بھی شامل ہیں۔ ان کے تلامذہ کہتے ہیں کہ وہ مشکل سے مشکل احادیث کے مطالب کو بہت جامع و مانع الفاظ میں بیان فرمادیا کرتے تھے۔ طلبہ کی ایمانی و عملی تربیت پر بہت زور دیتے تھے۔ ان کے اخلاق و عادات پر نگاہ رکھتے تھے۔ لایعنی کلام اور بے فائدہ باتوں سے سخت نفرت تھی۔ طلبہ اگر سوال و جوا ب میں ضرورت سے زائد بات کرتے تو اس پر بھی ٹوکتے اور کہتے: ’’لایعنی کلام کی عادت کی وجہ سے اصل مطالب بیان کرنے کی صلاحیت کو زنگ لگ جاتا ہے۔ جب کام کی بات مختصر انداز میں کہنے کی عادت ڈالی جائے تو گفتگو میں مطالب کو سمیٹنے کاملکہ پیدا ہوتا ہے۔ ‘‘ حضرت رائے ونڈ شوریٰ کے مرکزی رکن تھے۔ نہایت مردم شناس تھے۔ وہ اس حدیث کا مصداق تھے : ’’اِتَّقُوْا فَرَاسَۃَ الْمُؤْمِنْ فَاِنَّہٗ یَنْظُرُ بِنُوْرِاللّٰہِ۔‘‘ ترجمہ: ’’مؤمن کی فراست سے ڈرتے رہو کہ وہ اللہ کی دی ہوئی روشنی سے دیکھتا ہے۔ مشکوٰۃ‘‘ یہی وجہ تھی کہ بیرونِ ملک جماعتوں کی تشکیل کے لیے مبلغین کے چناؤ کے بعد آخری فیصلہ انہی کا ہوتا تھا۔ وہ روانگی کے لیے نامزد جماعتوں پر ایک نگاہ ڈالتے اور کچھ افراد کو ان کی ایمانی فراست مسترد کردیتی۔ یہ حتمی فیصلہ ہوتا تھا جس کے بعد باقی حضرات کی بیرون ممالک تشکیل ہوجاتی۔ حضرت کی زندگی نہایت سادہ تھی۔ معمولی لباس پہنتے، سادہ اور قلیل غذا پر اکتفا کرتے۔ رائے ونڈ مرکز کے جس حجرے میں قیام رہا وہ بھی بالکل سادہ تھا۔ دیکھ کر قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں کی یاد تازہ ہوجاتی تھی۔ سنن و مستحبات کے نہایت پابند تھے۔ تلامذہ کو بھی اس کی بار بار تاکید کرتے کہ سنتوں اور مستحبات کا خیال رکھا کریں۔ درس کے دوران کوئی سوال پوچھتے اور کوئی طالب علم جواب دینے کے لیے بایاں ہاتھ کھڑا کردیتا تو اسے تنبیہ کرتے کہ دایاں ہاتھ اٹھایا کرو۔ دنیا میں بہت سے لوگ آتے اور چلے جاتے ہیں، مگر کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی حیات قابلِ تحسین اور وفات قابلِ رشک ہوتی ہے۔ اس پرفتن دور میں مولانا جمشید مرحوم ان خوش قسمت لوگوں کی صفِ اول میں شامل تھے جن کی محنت کا محور ہی یہ رہا کہ اُمت کا تعلق اپنے ربّ سے جڑجائے۔ سب کی زندگیاں تبدیل ہوجائیں اور مسلمانوں کو پھر نشأۃ ثانیہ نصیب ہو۔ ان کی مساعی جمیلہ سے ہزاروں ایسے لوگ تیار ہوئے جو دوسروں کو دین کی طرف دعوت دینا ہی اپنی زندگی کا مقصد بناچکے ہیں۔ یہ ایسا صدقہ جاریہ ہے جس کے اجر و ثواب کا اس دنیا میں اندازہ لگانا مشکل ہے۔ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو دنیائے فانی کے بجائے آخرت کی اس سرمایہ کاری میں حصہ لیں۔ –

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

Leave a Reply